ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعلی پرویز خٹک کی شعبہ پولیس کو تحفظ عامہ کی بہتری کیلئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لانے کی ہدایت

datetime 4  مئی‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے شعبہ پولیس کو صوبے میں تحفظ عامہ کی بہتری کیلئے تمام تر توانائیاں بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اُن کی حکومت نے صوبے میں بہترین پولیسنگ کیلئے شعبہ پولیس کو آئیڈیل ماحول دیا ہے ۔پولیس حکام اور اہلکاروں کو چاہیئے کہ وہ اپنی نظریاتی اور تخلیقی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں استعمال میں لائیں جو پولیس میں آپریشنل اور تحقیقی دونوں سطح پر اولین اور پیشگی تقاضا ہے ۔

وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں سی سی پی او پشاور، ڈی آئی جی سپیشل برانچ ، ڈی آئی جی انکوائریز اور دیگر اعلیٰ حکام سے گفتگو کرر ہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ صوبے میں مختلف پوسٹوں پر سفارشی پولیس افسران اور حکام کی تعیناتی کے کلچر کے خاتمے سے بہت زیادہ فرق پڑا ہے ۔ ماضی میں شعبہ پولیس کو حکمران طبقے کے مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال کیا جاتا تھا اور پولیس حکمرانوں کے ذاتی پسند و ناپسند پر مبنی فیصلوں کی پیروی پر مجبور تھی ۔ یہاں تک کہ ٹریفک پولیس بھی اس جرم کا شکار تھی ۔ روایتی تھانوں میں بے جا تشدد کے استعمال نے پولیس کے سارے نظام اور اداروں کو تباہ اور بد نام کردیا تھا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ماضی میں پولیس کار ویہ بھی جرائم کو فروغ دینے کے بنیادی اسباب میں سے ایک سبب تھا ۔ اُن کی حکومت نے تمام منفی سرگرمیوں اور ہتھ کنڈوں کو روکا ۔ پولیس کو ادارہ جاتی اور مالیاتی خود مختاری دی اور پولیسنگ کے مجموعی عمل میں مثبت تبدیلی یقینی بنائی ۔ جرائم کے خلاف لڑنے کیلئے مطلوبہ فورس مہیا کی ۔ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے پولیس کی مجموعی کارکردگی میں بڑا فرق آیا ہے اور آج خیبرپختونخو اپولیس حقیقی معنوں میں ایک ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ پرویز خٹک نے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ جرائم کو بالکل ختم کرنا ناممکن ہو، تاہم جرائم پر قابو پانا عین ممکن ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ اپنی ذمہ داریوں کو آسانی کے ساتھ بطریق احسن انجام دینے کیلئے پولیس کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہو گی ۔ پولیس کے نوجوان افسران اور اہلکاروں کی تیز رفتار ترقی اُن کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گی پولیس کو چاہیئے کہ وہ بڑے چوروں کو پکڑے اور سنگین اور معمولی نوعیت دونوں قسم کے جرائم کی حوصلہ شکنی کرے کیونکہ چھوٹے چور ہی بڑے چوروں کی شکل اختیا ر کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے پولیس کو ڈیجیٹل اور فرانزک انوسٹی گیشن کی ہدایت کی اور اُنہیں بتایا کہ تقریباً10 سال پہلے جب اُنہوں نے لاہور میں پولیس تک رسائی کی تھی تو وہ اُن کی زندگی کا بدترین تجربہ تھا ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ پولیس کے خلاف شکایات میں کمی آرہی ہے تاہم پولیس میں بدعنوان سرگرمیوں کو روکنے اوربہتر کارکردگی کی حوصلہ افزائی کیلئے کیمروں کی تنصیب سمیت فول پروف انتظامات کی بدستور ضرورت ہے ۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ پولیس میں نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد کی بھرتیوں سے ادارے کے مجموعی ماحول میں مکمل تبدیلی آئے گی اور شعبہ پولیس اپنے مثبت کردار اور کارکردگی کی وجہ سے بہترین نام پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…