جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

خوفزدہ کیا جائے گا تو فیصلے کون کرے گا؟وزیراعظم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نیب کے خلاف پھٹ پڑے،یہ کام نہیں کرسکتے،دوٹوک انکارکردیا

datetime 25  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نیب کے خلاف پھٹ پڑے اور کہا کہ نیب نوٹسز کے خوف سے حکومتی مشینری نے کام چھوڑ رکھا ہے۔ انتظامیہ کو خوفزدہ کیا جائے گا تو فیصلے کون کرے گا۔اس ساری صورت حال سے ملکی ترقی کی پالیسیوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

نیب جب چاہے کچھ مانگ لے یہ کوئی طریقہ نہیں۔ نیب کا اداروں سے ریکارڈ مانگنے کا باقاعدہ طریقہ ہونا چاہیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ضروری نہیں کہ نیب کی کہی ہوئی ہر بات درست ہو، انتظامیہ کو اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرے۔ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ اگر انتظامیہ کے 10 فیصلوں میں سے 5 غلط ہوتے ہیں تو ان کو درست بھی انہوں نے ہی کرنا ہے لیکن نیب کے نوٹسز کیخوف سے سیکرٹریز اور حکومتی مشینری نے کام چھوڑ رکھا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انتظامیہ کو خوفزدہ کیا جائے گا تو فیصلے کون کرے گا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس ساری صورت حال سے ملکی ترقی کی پالیسیوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نیب کی جانب سے مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں کا ریکارڈ دینے کا خط مسترد کرتے ہوئے اعتراض اٹھایا کہ نیب جب چاہے کچھ مانگ لے یہ کوئی طریقہ نہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اجلاس کے دوران کہا کہ نیب کا اداروں سے ریکارڈ مانگنے کا باقاعدہ طریقہ ہونا چاہیے۔ نیب نے حکومت سے پاک اسٹیل، سوئی سدرن سمیت مختلف محکموں کے زیر تحقیقات افسران کا ریکارڈ مانگا تھا۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے نیب کو ریکارڈ کی فراہمی کا طریقہ وضع کرنیکے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کے سربراہ بیرسٹر ظفراللہ ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…