پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

نقیب محسودقتل کیس پر بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ کی تفصیلات منظر عام پر آگئیں،جعلی مقابلے کا اصل ذمہ دار کون ہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 25  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) نقیب محسودقتل کیس پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار کو جعلی مقابلے کاذمہ دارٹھرادیا ہے،جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اور دیگرلوگوں کو قتل کرنے کا عمل دہشت گردی ہے ،مقتولین کو دہشت گرد قرار دیکر جھوٹے پولیس مقابلے میں قتل کیاگیا،پولیس افسران اور اہلکاروں نے خود کو بچانے کیلئے میڈیا پر جھوٹ بولا ،

تفصیلات کے مطابق نقیب محسود قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور نقیب کے قتل پر بنائی گئی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ بنالی ہے ، جے آئی ٹی ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب پٹھان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی،مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) نے مختلف پہلوؤں سے مقدمے کی تفتیش کرنے کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کی ہے ،جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق نقیب اللہ محسود اور دیگر تین ملزمان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا ہے ،جبکہ جے آئی ٹی کو جائے وقوع سے بھی کوئی ایسے شواہد نہیں ملے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ چاروں افراد پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے ،جے آئی ٹی میں کہا گیا ہے کہ جائے وقوع کا جائزہ لینے کے بعد اور ڈی این اے رپورٹ سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاروں افراد کودوالگ الگ کمروں میں قتل کیا گیا،جائے وقوع سے ایک کمرے سے دوملزمان کے خون کے سیمپل ملے جبکہ دوسرے کمرے سے چاروں ملزمان کے خون کے سیمپل ملے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزمان کو الگ الگ قتل کیا گیا،جے آئی ٹی میں ڈی پی اور بہاولپور کی رپورٹ کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نقیب کے ساتھ قتل ہونے والے دیگر دو افراد محمد صابر اور محمد اسحق کا بھی کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور نہ ہی وہ خلاف قانون کسی سرگرمی میں کبھی ملوث پائے گئے تھے،رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جعلی مقابلے میں جاں بحق نظر جان پر ایک سے پانچ فٹ کے فاصلے پر فائرنگ کی گئی ،

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام شواہد راؤانوار کے خلاف ہیں اور شواہد سے راؤانوار کی جائے وقوع پر موجودگی ثابت ہوچکی ہے،جبکہ تفتیش کے دوران راؤانوار نے ٹال مٹول سے کام لیا اور وہ تفتیشی افسران کو مطمئن نہیں کرسکا،جبکہ ملزم ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں لاسکا جس سے ثابت ہوتا ہو کہ وہ جائے وقوع پر موجود نہیں تھا یا جعلی پولیس مقابلے میں اس کاکوئی کردار نہیں تھا،جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا

اور جائے وقوع سے شواہد کو بھی ضائع کیا،پولیس اہلکاروں نے خود کو بچانے کیلئے میڈیا پر جھوٹ بولا،جے آئی ٹی رپورٹ کی تیاری میں جیو فینسنگ اور فارنزک رپورٹس سے بھی مدد لی گئی ہے،جے آئی ٹی نے مقدمے کے تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان کو رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی اور رپورٹ کی روشنی میں ضمنی چالان بھی پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد جے آئی ٹی رپورٹ اور مقدمے کا ضمنی چالان آئندہ سماعت پر کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…