جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

عدلیہ ان چیزوں میں نہ پڑے تو اچھی بات ہے۔۔ن لیگ کے بعد پیپلزپارٹی بھی ججز کیخلاف میدان میں آگئی،کوئی پیچھے سے مداخلت کر رہا ہے،تمام ادارے اپنی حد میں رہیں، خورشید شاہ بہت کچھ کہہ گئے

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے سول معاملات میں مداخلت پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ ان چیزوں میں نہ پڑے تو اچھی بات ہے ٗغیر جمہوری طاقتیں تب حرکت میں آتی ہیں جب جمہوری قوتیں کوئی خلا چھوڑ دیں یا جب ہم اپنے اداروں کو کم جاننے لگے۔

ایک انٹرویومیں خورشید شاہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت اور ملک میں انتشار پھیلنے کی صورتحال کے حالیہ بیان پر کہا کہ غیر جمہوری طاقتیں تب حرکت میں آتی ہیں جب جمہوری قوتیں کوئی خلا چھوڑ دیں یا جب ہم اپنے اداروں کو کم جاننے لگے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت جمہوری عمل میں کوئی پیچھے سے مداخلت کر رہا ہے چنانچہ تمام اداروں کیلئے مشورہ ہے کہ اگر وہ ملک میں استحکام چاہتے ہیں تو خدا کے واسطے اپنی ٗاپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔خورشید شاہ نے کہا کہ اگر ملک میں الیکشن وقت پر اور صاف و شفاف طریقے سے ہو جائیں تو ہم کسی بھی قسم کے انتشار سے بچ سکتے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل چیف جسٹس صاحب سیاستدانوں کی طرح ہر جگہ میڈیا پر نظر آتے ہیں اور ان سے بات چیت بھی کرتے ہیں ٗسوال و جواب کا بھی سلسلہ چلتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ عدلیہ ان چیزوں میں نہ پڑے تو اچھی بات ہے۔انہوںنے کہاکہ بجائے یہ کہ چیف جسٹس صاحب خود جگہ جگہ کے دورے کرتے پھریں ٗوہ اس کام کے لیے ایک ٹیم مرتب کردیں جو ان کو رپورٹ پیش کردیا کرے اور پھر وہ متعلقہ حکام کو کورٹ میں طلب کر کے خود بازگشت کر لیں۔اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سیاست میں کوئی آخری دوست یا دشمن نہیں ہوتا ٗجو آج میرا سیاسی مخالف ہے وہ کل میرا دوست ہو سکتا ہے، اسی لیے میں مسلم لیگ (ن) سمیت تمام جماعتوں سے مشاورت کرنے کو تیار ہوں ،میرا موقف ہے کہ یہ نظام جیسا بھی اندھا لولا یا لنگڑا ہو۔

اسے چلنے دیا جائے۔مسلم لیگ (ن) سے جنوبی پنجاب کے محاذ پر علیحدگی اختیار کرنے والے کارکنان سے متعلق قائد حزب اختلاف نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا محاذ (ن) لیگ سے بھاگنے کا صرف ایک بہانہ تھا ٗجو لوگ چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں جب اپنی جماعت چھوڑتے ہیں تو وہ قوم سے بھی مخلص نہیں ہوتے اور انہی لوگوں کی وجہ سے سیاستدان بدنام ہوتے ہیں۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ میں نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کی ہے اور اس وقت ملک میں سب سے بڑا ادارہ بھی پارلیمنٹ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…