اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

عدلیہ ان چیزوں میں نہ پڑے تو اچھی بات ہے۔۔ن لیگ کے بعد پیپلزپارٹی بھی ججز کیخلاف میدان میں آگئی،کوئی پیچھے سے مداخلت کر رہا ہے،تمام ادارے اپنی حد میں رہیں، خورشید شاہ بہت کچھ کہہ گئے

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے سول معاملات میں مداخلت پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ ان چیزوں میں نہ پڑے تو اچھی بات ہے ٗغیر جمہوری طاقتیں تب حرکت میں آتی ہیں جب جمہوری قوتیں کوئی خلا چھوڑ دیں یا جب ہم اپنے اداروں کو کم جاننے لگے۔

ایک انٹرویومیں خورشید شاہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے غیر جمہوری قوتوں کی مداخلت اور ملک میں انتشار پھیلنے کی صورتحال کے حالیہ بیان پر کہا کہ غیر جمہوری طاقتیں تب حرکت میں آتی ہیں جب جمہوری قوتیں کوئی خلا چھوڑ دیں یا جب ہم اپنے اداروں کو کم جاننے لگے۔انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت جمہوری عمل میں کوئی پیچھے سے مداخلت کر رہا ہے چنانچہ تمام اداروں کیلئے مشورہ ہے کہ اگر وہ ملک میں استحکام چاہتے ہیں تو خدا کے واسطے اپنی ٗاپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں۔خورشید شاہ نے کہا کہ اگر ملک میں الیکشن وقت پر اور صاف و شفاف طریقے سے ہو جائیں تو ہم کسی بھی قسم کے انتشار سے بچ سکتے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل چیف جسٹس صاحب سیاستدانوں کی طرح ہر جگہ میڈیا پر نظر آتے ہیں اور ان سے بات چیت بھی کرتے ہیں ٗسوال و جواب کا بھی سلسلہ چلتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ عدلیہ ان چیزوں میں نہ پڑے تو اچھی بات ہے۔انہوںنے کہاکہ بجائے یہ کہ چیف جسٹس صاحب خود جگہ جگہ کے دورے کرتے پھریں ٗوہ اس کام کے لیے ایک ٹیم مرتب کردیں جو ان کو رپورٹ پیش کردیا کرے اور پھر وہ متعلقہ حکام کو کورٹ میں طلب کر کے خود بازگشت کر لیں۔اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ سیاست میں کوئی آخری دوست یا دشمن نہیں ہوتا ٗجو آج میرا سیاسی مخالف ہے وہ کل میرا دوست ہو سکتا ہے، اسی لیے میں مسلم لیگ (ن) سمیت تمام جماعتوں سے مشاورت کرنے کو تیار ہوں ،میرا موقف ہے کہ یہ نظام جیسا بھی اندھا لولا یا لنگڑا ہو۔

اسے چلنے دیا جائے۔مسلم لیگ (ن) سے جنوبی پنجاب کے محاذ پر علیحدگی اختیار کرنے والے کارکنان سے متعلق قائد حزب اختلاف نے کہا کہ جنوبی پنجاب کا محاذ (ن) لیگ سے بھاگنے کا صرف ایک بہانہ تھا ٗجو لوگ چاہے کسی بھی جماعت سے ہوں جب اپنی جماعت چھوڑتے ہیں تو وہ قوم سے بھی مخلص نہیں ہوتے اور انہی لوگوں کی وجہ سے سیاستدان بدنام ہوتے ہیں۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ میں نے ہمیشہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کی ہے اور اس وقت ملک میں سب سے بڑا ادارہ بھی پارلیمنٹ ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…