جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کا ’’لوگو‘‘ تبدیل کرکے ’’مارخور‘‘ کیوں لگایا جا رہا ہے؟ اس اقدام سے کتنے ارب روپے کمیشن ملے گا؟ اور وہ کمیشن کھانے والے کون لوگ ہیں؟ افسوسناک انکشافات

datetime 9  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے لوگو کی تبدیلی سے ایک ارب سے ڈیڑھ ارب روپے کمیشن ملے گا، تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس تبدیلی پر نوٹس لے گی۔

انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کا فلیگ کیرئیر تبدیل کرنے پر افسوس ہے۔ لوگو کی تبدیلی پر اڑھائی ارب روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے پر جھنڈا پاکستان کی علامت ہے، مارخور صرف پاکستان میں ہی نہیں اور کئی جگہوں پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس لوگو کی تبدیلی سے کمیشن کی مد میں ایک ارب سے ڈیڑھ ارب روپے ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ لوگو کی تبدیلی پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نوٹس لے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اپوزیشن خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت پاکستان کے نقصان پر خاموش ہو کر تماشا دیکھ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ نیب کے چیئرمین کل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ہدایات نیب کو جاتی ہے، ہدایات پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ لی جائے گی۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے لوگو کی تبدیلی سے ایک ارب سے ڈیڑھ ارب روپے کمیشن ملے گا، انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس تبدیلی پر نوٹس لے گی۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کا فلیگ کیرئیر تبدیل کرنے پر افسوس ہے۔ لوگو کی تبدیلی پر اڑھائی ارب روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے پر جھنڈا پاکستان کی علامت ہے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اس تبدیلی پر نوٹس لے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…