جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’وادی کشمیر کے حسین پہاڑوں کی اوٹ سے بھارتی جبر سے آزادی کا سورج انشاءاللہ جلد طلوع ہو گا‘‘

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (پ ر)آج پاکستانی قوم بھارتی ظلم و بربریت اور خطہء کشمیر پر غاصبانہ تسلط قائم رکھنے کے لئی ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کے خلاف اپنے کشمیری بھائیوں ، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بزرگوں سے یکجہتی کا دن منا رہی ہے۔کشمیری عالمی برادری سے یہ سوال پوچھنے کے لئے حق بجانب ہیں کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق انہیں بنیادی حق سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے ۔عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھارتی افواج کے بڑھتے ہوئے بدترین مظالم بند کرانے کیلئے اپناموثر کردار ادا کرنا پڑے گاگجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام کے مجرم مودی اور غاصب بھارت فوج pellet gun کے وحشیانہ استعمال سے کشمیریوں کے جسم چھلنی کر سکتے ہیں،کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی چھین سکتے ہیںلیکن کشمیری بچوں، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بزرگوں اور اپنے لہو سے آزادی کے چراغ روشن کرنے والے دلیر کشمیری مجاہدوں کی آنکھوں میں سجے آزادی کے خواب کبھی نہیں چھین سکتے!!
تاریخ کا اصول ہے۔
ظلم پھر ظلم ہے ‘بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ‘ٹپکے گا تو جم جائے گا !!
میرے کشمیری بہنوں اور بھائیو!میںبطور ایک پاکستانی اور بطور بذاتِ خود ایک کشمیری آپ کو بتانا چاہتا ہوں،جب بھارتی pellet guns کے چھرے کشمیری بیٹوں،بیٹیوں کی آنکھوں میں پیوست ہوتے ہیںتو ہر پاکستانی کے دل سے خون کے آنسو ٹپکتے ہیں،جب کشمیری “پاکستان سے رشتہ کیا،’’لا الہٰ الااللہ ‘‘کا نعرہ بلند کرتے ہیںتو ہر پاکستانی کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں،جب ایک شہید کشمیری کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر تدفین کی جاتی ہےتو ہر پاکستانی کا دل ایک محکم یقین کے ساتھ پکار اٹھتا ہےکہ انشاءاللہ کشمیر بنے گا پاکستان!!!میں بھارتی حکمرانوں کو واشگاف الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں،کشمیر میں آگ اور خون کا کھیل اب آپ کو بند کرنا ہو گا!کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینا ہو گا! عالمی ضمیر کو اب بیدار ہونا ہو گااور کشمیری ماؤں بہنوں کی پکار اور آہوں کو سننا ہو گا!!آزادی ہر انسان کا پیدائشی حق ہےیہ حق کسی قوم سے نہیں چھینا جا سکتا کسی قوم کو ہمیشہ کے لئے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر نہیں رکھا جا سکتا!!وادئ کشمیر کے حسین پہاڑوں کی اوٹ سے بھارتی جبر سے آزادی کا سورج انشاءاللہ جلد طلوع ہو گا۔میرا خدائے بزرگ و برتر کی رحمت پر پختہ یقین ہے۔انشاءاللہ تعالیٰ بہت جلدرنگ لائے گا شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا !!!‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…