بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی وزیر مریم اورنگزیب مجھے کمرہ عدالت میںکس طرح کےشرمناک اشارےکر رہی تھیں؟ صحافی کے سخت سوالات پوچھنے پرمریم نواز اور نواز شریف آپے سے باہر ہو گئے، کیا پیغام بھیج دیا، صحافی سب کچھ سامنے لے آیا

datetime 31  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صحافی انعام اللہ خٹک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کمرہ عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سے سخت سوالات پوچھنے پر ان کی جانب سے جیل بھجوائے جانے کی دھمکی موصول ہوئی ہے اور یہ دھمکی کسی اور نے نہیں بلکہ وہاں موجود وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے دی ہے۔

انعام اللہ خٹک نے اپنے ٹویٹر پیغام میں بتایا ہے کہ مریم اورنگزیب نے مجھے جیل بھجوانے کی دھمکی دی اور یہ بھی کہا ہے کہ باہر بہت پولیس کھڑی ہے۔ انہوں نے یہ دھمکی ایک بار نہیں بلکہ دو بار دی ہے۔ ایک بار انہوں نے مجھے کمرہ عدالت میں منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئےمخصوص اندازمیں دھمکی آمیز لہجے میں کچھ اشارے کیے جس کا مطلب یہ تھا کہ باز آ جائواوراس وقت مریم نواز بھی مریم اورنگزیب کے ہمراہ موجود تھیں۔ اس کے بعد مریم اورنگزیب نے مجھے باہر بلایا اور دوبارہ دھمکی دی اور کہا کہ نواز شریف اور مریم نوا ز سے سخت سوال پوچھنے پر آپ کو جیل بھجوایا جا سکتا ہے۔انعام اللہ خٹک نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مریم اورنگزیب کی جانب سے موصول ہونے والی دھمکی دراصل مریم نواز اور نواز شریف کی جانب سے دی گئی ہے کیونکہ مریم اورنگزیب نے ان سے یہ بھی کہا کہ میں نے آپ کو پیغام پہنچانا تھا اور وہ میں نے پہنچا دیا ہے۔واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز ایوان فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد احتساب عدالت میں پیش ہوتے ہیں اور اس دوران ان کے ساتھ ن لیگ کے اہم رہنما بھی ہوتے ہیں۔ سابق وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی وقتاََ فوقتاََ صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے رہتے ہیں اور ان سے گفتگو کا یہ سلسلہ کبھی کبھی کمرہ عدالت میں بھی دیکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…