ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

(ن) لیگ کا نام و نشان مٹنے کا وقت آن پہنچا، متعد د ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اگلے چند دنوں میں کیا کارروائی کرنیوالے ہیں؟ خفیہ ادارے نے شریف خاندان کو پیشگی آگاہ کر دیا

datetime 23  مارچ‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)حکمران جماعت ن لیگ کو بڑا دھچکا، کئی پارلیمنٹیرینز پارٹی چھوڑ چکے، الیکشن سے قبل متعدد اڑان بھرنے کو تیار، اعلیٰ سول خفیہ ادارے کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے ایک قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ایک اعلیٰ سول خفیہ ادارے نے مشورہ دیا ہے کہ آپ مذہبی معاملات پر دئے گئے

متنازعہ بیانات اور فیصلوں پر جلسوں میں معافی مانگ لیں، آپ کے اس اقدام سے مذہبی ووٹ بنک کو پہنچنے والے نقصان کو بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔اعلیٰ سرکاری ذرائع نے سول خفیہ ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ سول خفیہ ادارے نے حکومتی جماعت مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو مذہبی معاملات پر متنازعہ بیانات اور فیصلوں کی وجہ سے مذہبی ووٹ کو پہنچنےوالے نقصان کی تلافی کے لیے معذرت کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ نواز شریف نے ہندو اقلیت کی ایک تقریب میں اسلام سے متعلق ایک متنازعہ بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ رحمان اور بھگوان ایک ہی ہیں جبکہ قومی اسمبلی کے حلف نامے میں ختم نبوت کی ترمیم بھی ان کی وزارت عظمیٰ میں پیش کی گئی جو بعد میں غلطی کہہ کر واپس لے لی گئی۔اور اس پر وفاقی وزیر قانون کا استعفیٰ بھی لیا گیا۔ حکومتی جماعت کے کچھ پارلیمنٹیرینز پارٹی کو انہی معاملات کی وجہ سے چھوڑ چکے ہیں اور مزید الیکشن سے قبل چھوڑ جائیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نواز شریف پر جامعہ نعیمیہ میں جوتا پھینکنے والے دو مرکزی ملزمان نے سول خفیہ ادار کی تفتیش میں نواز شریف کے ہندو اقلیت کی تقریب میں متنازعہ بیان اور ختم نبوت قانون میں ترمیم کو جوتا پھینکنے کی بڑی وجہ بتایا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی جماعت کے جن پارلیمنٹیرینز نے اپنے استعفے روک لیے ۔

تھے عین ممکن ہے کہ وہ الیکشن سے قبل اپنے استعفے دے کر پارٹی کو خیرباد کہہ دیں ان میں سے کئی اُمیدوار پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جبکہ کچھ اُمیدوارآزاد حیثیت میں بھی 2018ء کا الیکشن لڑ سکتے ہیں۔رپورٹ کے دوسرے حصے میں حکومتی جماعت کو حکومتی جماعت کو ملکی اداروں، عدلیہ اور فوج کے خلاف بیانات نہ دینے کا مشورہ دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے

کہ نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا بیانیہ عوام میں کہیں بھی پذیرائی نہیں رکھتا، خصوصی طور پر شمالی اور وسطی پنجاب میں اس بیانیے سے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شمالی پنجاب سے فوج میں افسر سے لے کر سپاہی بڑی تعداد میں موجود ہیں جبکہ وسطی پنجاب کے چند علاقوں میں بھی فوج کی ایک بڑی تعداد اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔

ان کے رشتہ دار اور قریبی عزیز اور ان سے جُڑے تمام لوگوں میں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے فوج پر لفظی حملوں اور تنقیدی بیانات کی وجہ سے بے چینی پائی جاتی ہے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…