اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

(ن) لیگ نے فاٹا میں ایک ووٹ 30کروڑمیں نہیں خریدا بلکہ ایک ووٹ کتنے کا بکا،حیران کن انکشاف

datetime 3  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)سینٹ کی 52سیٹوں پر پولنگ کا عمل جاری ہے ۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی انجینئر حامدالحق نے الزام عائد کیا ہے کہ ن لیگ نے فاٹا میں ووٹ خرید کر پیسے کی منڈی لگائی، ہر ووٹر کو 32 کروڑ روپے دیے جارہے ہیں۔فاٹا کے 6 ارکان اسمبلی نے اپنا گروپ بنا رکھا ہے اور اس ٹولے میں گل آفریدی، جی جی جمال، بسم اللہ خان،ناصر آفریدی، بلال رحمان اور ساجد طوری شامل ہیں۔

فاٹا سے ہدایت اللہ، ہلال رحمان،مرزا آفریدی اور شمیم آفریدی سینیٹرز منتخب ہوں گے۔واضح رہے کہ فاٹا سے قومی اسمبلی کے 12 ارکان مل کر 4 سینیٹرز منتخب کرتے ہیں اس لیے سینیٹ الیکشن میں ہر بار ان ارکان کا ریٹ سب سے زیادہ لگایا جاتا ہے۔ فاٹا میں سینیٹ انتخابات میں یہ روایت چلی آرہی ہے کہ 6 ارکان مل کر اپنا گروپ بنالیتے ہیں اور 4 سینیٹرز کو ووٹ ڈال کر انہیں منتخب کرادیتے ہیں، یہ 6 ووٹ پڑنے کے بعد باقی لوگوں کے ووٹ بے معنی ہوجاتے ہیں اور اس بار بھی ہارس ٹریڈنگ میں ریٹ بڑھانے کیلئے یہی روایت برقرار رکھی گئی ہے۔ دریں اثنا فاٹا  سے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین  نے  فاٹا کے لیے پوری قومی اسمبلی کو الیکٹورل کالج بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سینیٹ الیکشن کابائیکاٹ   کردیا اور کہاکہ  فاٹا کے نمائندہ ووٹ ڈال رہے ہیں، ہم الیکشن کا بائیکاٹ کر رہے ہیں ، ایک طرف چھ ارکان کا ٹولہ ہے اور دوسری طرف 5 فاٹا کے ارکان ہیں۔یہ صورتحال ہارس ٹریڈنگ کا سبب بن رہی ہے۔ ہفتہ کویہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے   کہاکہ آج کا دن مبارک ہے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ الیکشن کمیٹی نے ہماری بات نہیں سنی۔الیکشن رفارمز ناگزیر تھے مشرف کے زمانہ میں ایک ممبر ایک ووٹ ڈالتا تھا ایک ممبر قومی اسمبلی ایک ووٹ اب ایک ممبر

چار ووٹ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ الیکٹورل کالج بارہ افراد پر مشتمل تھا ۔لیکن چار کو منتخب کرنا ہے ہم نے دہشتگردی کی کمر توڑ دی۔ چھ فاٹا ارکان  چارفاٹا کے سینٹر منتخب کر رہے  ہیں پاکستان کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی میں نے بار بار رفارمز کمیٹی کو خط لکھے لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کتنی بولی لگی ہے ہمیں شرمندگی ہوتی ہے، شہاب الدین  نے کہاکہ  چار فاٹا کے نمائندہ ووٹ ڈال رہے ہیں ہم الیکشن کا بائیکاٹ کر رہے ہیںمیرا بیٹا بھی الیکشن لڑ رہا ہے لیکن صوتحال بہت افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا ٹرائبل ایریا ہے فاٹا کے لیے پوری قومی اسمبلی کو الیکٹورل کالج بنایا جائے۔ شہاب الدین  نے کہا کہ ایک طرف چھ ارکان کا ٹولہ ہے اور دوسری طرف 5 فاٹا کے ارکان ہیں۔یہ صورتحال ہارس ٹریڈنگ کا سبب بن رہی ہے وفاقی دارالحکومت کے دو امیدواروں کیلئے ووٹنگ میں حصہ لیا ہے فاٹا کیلئے سینیٹ انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…