لاہور(سی پی پی،آئی این پی) پنجاب اسمبلی میں سینیٹ الیکشن کیلئے پولنگ شروع ہونے سے پہلے اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب تحریک انصاف کے سینئر رہنما راجہ ریاض نے وزیرقانون پنجاب رانا ثنااللہ سے اپنے امیدوار کیلئے ووٹ مانگا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ خانجب سینیٹ الیکشن کیلئے ووٹ ڈالنے آئے تو پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں میں پی ٹی آئی رہنما راجہ ریاض سے ان کی ملاقات ہوگئی۔
راجہ ریاض نے راناثنااللہ کوگلے لگایا اور ان سے پی ٹی آئی کے امیدوار کیلئے ووٹ مانگ لیا تاہم رانا ثنااللہ مسکرا کراور ان کا حال چال پوچھ کرچلے گئے۔ ادھر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی کی وزیراعلیٰ ہائوس کے عشائیے میں شرکت افسوسناک ہے، اختلافی صورتحال سے نالاں ہو کر پی پی پی کو فائدہ پہنچانا پارٹی کے ساتھ ناانصافی ہے، فاروق ستار اور خالد مقبول نہیں چاہتے کہ اختلافات کی وجہ سے ووٹ تقسیم ہوں پی ٹی آئی، فنکشنل لیگ اور ن لیگ سے رابطہ ہے، کوشش ہے کہ سینٹ کی پانچ نشستوں پر جیتیں، خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ ہفتہ کویہاں سینیٹ الیکشن کے موقع پر سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی فیصل سبزواری نے کہا کہ پارٹی میں باہمی اختلافات کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا اور ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی نے مشترکہ امیدواروں کا اعلان کیا۔فیصل سبزواری نے کہا کہ ہمارے کچھ لوگوں سے پی پی پی نے رابطہ کیا ہے، ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی سے درخواست ہے کہ اختلافی صورتحال سے نالاں ہو کر پی پی پی کو فائدہ پہنچانا پارٹی کے ساتھ ناانصافی ہے،
ایم کیو ایم کی دو خواتین اراکین کی وزیراعلیٰ ہائوس کے عشائیے میں شرکت افسوسناک ہے، ایک شخص کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو فائدہ پہنچانا مناسب نہیں ہے۔فیصل سبزواری کا کہنا تھا کہ فاروق ستار اور خالد مقبول نہیں چاہتے کہ اختلافات کی وجہ سے ووٹ تقسیم ہوں، اسی لیے مشترکہ امیدواروں کا اعلان کیا، ایم کیو ایم کے اختلافات کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا، ایم کیو ایم متحد ہوچکی ہے، ہمیشہ تنظیم ہی امیدوار نامزد کرتی تھی، 5 فروری سے شروع ہونے والی اختلافی صورتحال افسوسناک اور روایت شکنی تشویشناک ہے، ایم کیو ایم کی اس صورتحال کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوگا۔فیصل سبزواری نے مزید کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی، فنکشنل لیگ اور ن لیگ سے رابطہ ہے، کوشش ہے کہ سینٹ کی پانچ نشستوں پر جیتیں، خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں، فاروق ستار کے امیدوار کامران ٹیسوری ہیں۔



















































