پشاور (آن لائن،آئی این پی) خیبرپختونخوا اسمبلی میں پولنگ بوتھ پر پولنگ مانیٹر کرنے کے لئے سکیورٹی کیمرہ لگایا گیا جس سے اراکین اسمبلی کے اعتراص کے بعد ٹیپ لگا کر بند کر دیا گیا۔صوبائی وزراء مشتاق غنی اور مظفر سید کا ویسٹ کوٹ اتارکرتلاشی لی گئی جب کہ نگہت اورکزئی تلاشی لینے پر شدید برہم ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینٹ الیکشن کی پولنگ کا عمل صبح 9 بجے سے جاری ہو گیا تھا۔
لیکن ابھی 17 ہی ووٹ کاسٹ ہوئے تھے کہ اراکین اسمبلی نے پولنگ ایجنٹوں سے شکایت کی کہ پولنگ بوتھ کے عین اوپر پولنگ کو مانیٹر کرنے کے لئے کیمرہ نصب کیا گیا ہے جو کہ انتہائی نامناسب فعل ہے۔ ووٹ کاسٹ کرنا ہر رکن اسمبلی کا بنیادی حق ہے کہ وہ جس کو چاہے اس کو دے ۔ جس پر پولنگ ایجنٹوں نے آدھے گھنٹے تک پولنگ کا عمل روک دیا اور سکیورٹی طلب کر لی جس کے بعد سکیورٹی عملے نے ایوان میں سیڑھی لا کر پولنگ بوتھ پر لگے کیمرے پر ٹیپ لگائی اور دوبارہ پولنگ ایجنٹوں کو دکھا کر تسلی کرائی اور عملہ سے پولنگ کا عمل آدھے گھنٹے کی تاخیر کے بعد دوبارہ جاری کیا گیا۔دریں اثنا سینیٹ انتخابات کے موقع پر ممکنہ ہارس ٹریڈنگ کے خدشات کے باعث ارکان اسمبلی کی سخت تلاشی لی گئی، ارکان اسمبلی کے کوٹ اور واسکٹ اتروا کر تلاشی لی گئی، سخت تلاشی پر ارکان خیبرپختونخوا اسمبلی نے شدید احتجاج کیا، احتجاج کے باعث پولنگ کا عمل دوسری مرتبہ کچھ دیر کیلئے روک دیا گیا۔ ہفتہ کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے دوران ممکنہ ہارس ٹریڈنگ کے خدشات پر سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیئے گئے، اسمبلی میں ارکان کے کوٹ اور واسکٹ تک کو اتار کر تلاشی لی گئی
جس پر ارکان اسمبلی نے سخت احتجاج کیا۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ واسکٹ پہننا ان کی روایات میں شامل ہے جبکہ پولنگ ایجنٹ نے موقف اپنایا کہ واسکٹ پہن کرآنا الیکشن قوانین کے خلاف ہے، احتجاج کے باعث پولنگ کا عمل دوسری مرتبہ کچھ دیر کیلئے روک دیا گیا۔



















































