منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان پر جنگجوئوں کو پناہ کا الزام ، افغانستان خود بے نقاب ہو گیا فوجی یونٹ پر خود کش حملے کے بعد پاک فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز، افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے پرخچے اڑا کر رکھ دئیے،

datetime 6  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے شمالی صوبے کنٹر کے حکام نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان نے ڈیورنڈ لائن سرحد کے قریب 180راکٹ داغے ہیں جن سے کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان ماضی میں یہ کہہ چکا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کنڑ میں موجود ہیں جہاں سے وہ پاکستان پر حملوں کی

منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ کنڑ پر راکٹ حملوں کی خبر ایسے وقت آئی ہے جب دو روز قبل خیبرپختونخواہ کے علاقے سوات میں ایک فوجی یونٹ میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم 11فوجی اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ کنڑ صوبے کے ضلع دانگام کے ضلعی سربراہ احمد رحمان دانش نے بی بی سی پشتو کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کے حملے پوری رات جاری رہے اور کئی خاندان اس علاقے سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ راکٹ تین دیہات پر فائر کئے گئے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستا ن کی جانب سے کئے گئے راکٹ حملےکالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں پر کئے گئے جن میں کالعدم تنظیم کے متعدد جنگجوئوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ مقامی افغان انتظامیہ اس بات کو چھپا رہی ہے۔ خیال رہے کہ افغانستان پاکستان پر طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانوں کا تو الزام عائد کرتا رہتا ہے تاہم کنٹر، نورستان اور دیگر سرحدی علاقوں میں موجود کالعدم تحریک طالبان، داعش ، جماعت الاحرار کی موجودگی اور ٹریننگ کیمپوں کی موجودگی کا ذکر گول کر جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…