منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ ہیں، جمہوریت کا قصہ پیر اور پیرنیوں پر آگیا تو پھر خدا ہی حافظ ،گوادر میں پینے کا پانی نہیں ،سی پیک کاپیسہ کہاں لگایا جا رہا ہے، خورشید شاہ کے انٹرویو کے دوران انکشافات

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں ، جمہوریت کا قصہ پیر اور پیرنیوں پر آگیا تو پھر خدا ہی حافظ ہے ، پنجاب میں بجلی کی چوری زیادہ ہے اور لائن لاسز کم ہیں ،سی پیک کے پیسوں سے لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین چل رہی ہے ، گوادر میں پینے کا پانی نہیں ہے، اگر لڑائی سے سسٹم ڈی ریل ہوا تو قصور(ن) لیگ کا ہوگا، پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر اقتدار میں نہیں آسکتے۔

بدھ کو نجی ٹی وی انٹرویو دیتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی سیاست سے ملک خوشحالی کی طرف گیا ، بدقسمتی سے پارلیمنٹ میں اقتدار کی سیاست ہوتی رہی ، پارلیمنٹ میں ہم لوگوں سے کچھ خامیاں ہوئی ہیں ، ذوالفقار علی بھتو نے پارلیمنٹ کیلئے جدوجہد کی ۔انہوں نے کہا کہ لوگ پارلیمنٹ پر لعنت بھیج کر اقتدار میں نہیں آسکتے ، کیا آپ کے پی کے کی اسمبلی پر بھی لعنت بھیج رہ ہیں ، پیپلز پارٹی گالم گلوچ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ، میرا خیال ہے کہ تحریک انصاف استعفے فروری کی پہلی تاریخ کو دے گی ، فروری میں استعفے دینے کا مقصد ختم ہوجائے گا ۔ پونے پانچ سال بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم استعفے دے رہے ہیں ، اب کیا ہوگا ، جب چڑیا چگ گئی کھیت ، یہ لوگ سینیٹ الیکشن میں حصہ لیں ۔خورشید شاہ نے کہا کہ آرمی چیف نے واضح کیا کہ جمہوریت کے ساتھ ہیں ، میں بشریٰ مانیکا کا بہت احترام کرتا ہوں ، الیکشن کمیشن کا امتحان بڑا اور وقت کم ہے ، چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی ، ہم نے اگر سینیٹ میں اکثریت حاصل کی تو چیئرمین بھی ہمارا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ اگر جمہوریت کا قصہ پیر اور پیرنیوں پر آگیا تو پھر خدا ہی حافظ ہے ، ہماری دعا ہے کہ خان صاحب شادی کریں لیکن پھر سنبھال بھی لیں ، بجلی کی سب سے زیادہ چوری پنجاب میں ہورہی ہے ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بجلی چوری سے زیادہ لائن لاسز ہیں جبکہ پنجاب میں بجلی کی چوری زیادہ ہے اور لائن لاسز کم ہیں ،

سی پیک کے پیسوں سے لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین چل رہی ہے ، گوادر میں پینے کا پانی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاست کا مطلب ہے سسٹم کو بچاؤ او سسٹم کیلئے خطرہ کو نکال باہر کرو، پیپلزپارٹی کے دور میں بہت سازشیں ہوئیں ، ہم نے بھٹو کی دی ہوئی سیاسی بصیرت کا استعمال کیا ۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے کبھی گالی نہیں دی نہ ہی کبھی کسی کو برا بھلا کہا ہے ، ادروں کو صبر سے چلنا چاہیے اور سیاست میں بنہیں آنا چاہیے ، ہم نے مشرف کو بندوق سے نہیں سیاست سے نکالا الیکشن ہوا تو پیپلزپارٹی اچھی سیٹیں لے جائے گی ۔ نیب سے کوئی سزا ہوئی تو (ن) لیگ کا بڑا امتحان ہوگا ، اگر لڑائی سے سسٹم ڈی ریل ہوا تو قصور(ن) لیگ کا ہوگا ۔انہوں نے کاہ کہ پی ٹی آئی کو لاہور کے جلسے میں اپنے بندے لانے چاہیے تھے ، پیپلزپارٹی کیساتھ سیف الرحمان نے کہا کچھ نہیں کیا ، شہباز شریف کی اداروں کی تعریدیں ختم نہیں ہوتیں ، جب اپنے اوپر بات آتی ہے تو یہ چیخنا شروع کردیتے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…