منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

’’ مجھے کیوں نکالا‘‘پشاورمیں حیرت انگیزواقعہ،سرکاری سکول کے طالب علم نے ایسا کام کردیا کہ جس نے دیکھا دیکھتاہی رہ گیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور کے ایک سرکاری سکول سے نکالے گئے طالبعلم نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد مشہور ہونے والے سوال ’’مجھے کیوں نکالا؟’’ پوسٹ کارڈ پر لکھ کر احتجاج کرتے ہوئے سکول پرنسپل سے اپنے نکالے جانے کی وجہ پوچھ ڈالی۔

پشاور پریس کلب کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں نعروں پر مبنی پلے کارڈ اٹھائے اور گلے میں مجھے کیوں نکالا کا پوسٹ کارڈ ڈالے گورنمنٹ ہائی سکول وزیر باغ کے نویں جماعت کے طالب نصیب شاہ کاکہنا تھا کہ تقریباً 35 روز قبل اپنے ہم جماعت کامران نامی لڑکے کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد پرنسپل نے اسے سکول سے نکال دیا حالانکہ یہ معمولی لڑائی جھگڑے تو ہر سکول اور کلاس میں ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ سکول جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا سہارا بننا چاہتا ہے لیکن پرنسپل اسے سکول میں آنے نہیں دے رہا۔سکول سے نکالے جانے والے طالب نصیب شاہ کے بڑے بھائی صالح محمد نے بتایا کہ اس ضمن میں اس نے سکول پرنسپل محمد یونس سے درخواست بھی کی ہے لیکن پرنسپل نے اسے بھی بے عزت کرکے اپنے دفتر سے نکال دیا۔انہوں نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا کہ پرنسپل کے رویئے کا نوٹس لے کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ نویں جماعت کا نصاب کافی مشکل ہے اور نصیب شاہ کو گزشتہ 35 دنوں سے سکول میں نہیں چھوڑا جارہا جس سے اس کی پڑھائی پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…