جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

’’ مجھے کیوں نکالا‘‘پشاورمیں حیرت انگیزواقعہ،سرکاری سکول کے طالب علم نے ایسا کام کردیا کہ جس نے دیکھا دیکھتاہی رہ گیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2017 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) پشاور کے ایک سرکاری سکول سے نکالے گئے طالبعلم نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد مشہور ہونے والے سوال ’’مجھے کیوں نکالا؟’’ پوسٹ کارڈ پر لکھ کر احتجاج کرتے ہوئے سکول پرنسپل سے اپنے نکالے جانے کی وجہ پوچھ ڈالی۔

پشاور پریس کلب کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں نعروں پر مبنی پلے کارڈ اٹھائے اور گلے میں مجھے کیوں نکالا کا پوسٹ کارڈ ڈالے گورنمنٹ ہائی سکول وزیر باغ کے نویں جماعت کے طالب نصیب شاہ کاکہنا تھا کہ تقریباً 35 روز قبل اپنے ہم جماعت کامران نامی لڑکے کے ساتھ ہاتھا پائی کے بعد پرنسپل نے اسے سکول سے نکال دیا حالانکہ یہ معمولی لڑائی جھگڑے تو ہر سکول اور کلاس میں ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ سکول جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا سہارا بننا چاہتا ہے لیکن پرنسپل اسے سکول میں آنے نہیں دے رہا۔سکول سے نکالے جانے والے طالب نصیب شاہ کے بڑے بھائی صالح محمد نے بتایا کہ اس ضمن میں اس نے سکول پرنسپل محمد یونس سے درخواست بھی کی ہے لیکن پرنسپل نے اسے بھی بے عزت کرکے اپنے دفتر سے نکال دیا۔انہوں نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا کہ پرنسپل کے رویئے کا نوٹس لے کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ نویں جماعت کا نصاب کافی مشکل ہے اور نصیب شاہ کو گزشتہ 35 دنوں سے سکول میں نہیں چھوڑا جارہا جس سے اس کی پڑھائی پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…