جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

دسمبر 2017ء میں پاکستان میں تباہ کن قدرتی آفت نازل ہونے کی پیش گوئی کر دی گئی

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گزشتہ روز ایک بھارتی شہر بابو کلیال جو کہ بی کے ریسرچ ایسوسی ایشن فار ای ایس پی کا ڈائریکٹر بھی ہے نے بھارتی وزیراعظم نریند مودی کو خط لکھا جس میں انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت سمیت 11 ایشیائی ممالک میں شدید زلزلہ آئے گا جس سے سونامی کا خطرہ ہے۔ ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے ساحلی علاقے بھی شدید متاثر ہوں گے،

بھارتی شہری بابو کالیال نے اپنے خط میں کہا کہ 31 دسمبر 2017ء سے قبل بحرہند میں خطرناک زلزلہ آئے گا جس کی وجہ سے ایشیائی ممالک کے ساحلوں پر سونامی کے خطرات ہیں۔ اس شہری کی پیش گوئیوں پر پاکستان نے اپنے اداروں کو ممکنہ زلزلے اور سونامی سے بچنے کے لیے تیاریوں پر مجبور کر دیا ہے۔ اس پیشگوئی کی کوئی سائنسی توجیح بیان نہیں کی گئی ہے کیونکہ دنیا میں ابھی تک ایسی کوئی تکنیک دستیاب نہیں، جس کے ذریعے زلزلے کی 15 سیکنڈ سے پہلے اطلاع دی جا سکے۔انڈین سوشل میڈیا میں یہ خط شائع ہونے کے بعد وائرل ہوا اور مختلف اخبارات نے اس پر خبریں شائع بھی کیں، پاکستانی اداروں نے اس شخص اور اس کی پیشگوئی کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیرنو کا کام کرنے والے ادارے ایرا نے اپنے تحریری حکم نامے میں کہا کہ پاکستان کی سلامتی کے ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے بحر ہند میں زلزلے کی پیشگی اطلاع کے بعد اس سے نمٹنے کے لیے قواعد و ضوابط کی تیاری کے سلسلے میں ایرا نے اجلاس چھ نومبر کو طلب کر لیا ہے۔ ایرا کی جانب سے بار بار رابطے کے باوجود اس مراسلے کی صحت کے بارے میں کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے لیکن پاکستانی محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر غلام رسول نے بی بی سی سے

بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کی جانب سے اس طرح کی اطلاع کے بعد ان کے ادارے سمیت متعدد پاکستانی سرکاری ادارے بحر ہند میں اس ممکنہ زلزلے اور اس کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ جب ڈاکٹر غلام رسول سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی سائنسی طریقہ ہے جس کے ذریعے مستقبل میں آنے والے زلزلے کے بارے میں پہلے سے اطلاع دی جا سکے، تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔ اس پیشگوئی کے سامنے آنے کے بعد میں نے جاپانی ماہرین سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے بھی کہا کہ وہ ایسی کسی ٹیکنالوجی سے آگاہ نہیں ہیں جس سے زلزلے کے بارے میں پیشگی اطلاع مل سکے۔ پھر بغیر سائنسی تصدیق یا بنیاد کے بغیر ایک عام آدمی کی پیشگوئی کی بنیاد پر بحر ہند میں سونامی کے لیے تیاریاں کرنے کا کیا مطلب؟ اگر سائنس میں زلزلے کے بارے میں پیشگوئی کا طریقہ ابھی تک دریافت نہیں ہوا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا کبھی ممکن نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…