منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے رکن اسمبلی کا خیبرپختونخوااسمبلی میں حیرت انگیز اقدام، پارٹی رہنماؤں کے ہوش اُڑ گئے،ایسا کام کردیا کہ کسی نے سوچابھی نہ ہوگا

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہو گیا۔کرک سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رکن اسمبلی گل صیب خان کا انوکھا احتجاج ،بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر گل صیب خان ڈائس پر چڑھ گئے اور دوران اجلاس پوائنٹ ا ف ارڈر کے نعرے لگا تے رہے۔ڈپٹی سپیکر نے رکن اسمبلی کی سرزنش کی۔ایوان کو قوائد و ضوابط کے مطابق چلاونگی ۔خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس کے دوران کرک سے تحریک انصاف کے رکن اسمبلی گل صیب خان نے انوکھا احتجاج کیا ۔

پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر گل صیب خان ڈائس پر چڑھ گئے۔۔ گل صیب خان نے ڈائس پر چڑھ کر پوائنٹ اف ارڈر کی صدائیں بلند کرنا شروع کیں۔ اراکین اسمبلی نے گل صیب خان کو خاموش کرانے کی بہت کوشش کی تاہم وہ چھپ نہ ہوسکے ۔ ڈپٹی سپیکر مہرتاج روغانی نے رکن اسمبلی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کو قوائد و ضوابط کے مطابق چلاونگی ۔رکن اسمبلی گل صیب خان کاکہنا تھا کہ بات کرنے کا موقع نہیں ملے گا تو یہی کچھ کرنے پر مجبور ہونگے، ضلع کرک کو گیس رائیلٹی کے مد میں چار ارب روپے دو سال سے ریلیز نہیں ہورہے، کرک پورے پاکستان کے لئے گیس پیدا کررہاہے، عوام رائیلٹی کے اپنے حق سے محروم ہیں ۔ کرک کے دیگر ایم پی ایز کی طرح خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔۔اجلاس میں جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے اراکین بھی احتجاجا حکومتی اراکین اور وزراء پر بر س پڑے، کوہاٹ ڈویژن کے ایم پی ایز کا کہنا تھا چار سالوں سے ہمیں گیس اور پٹرول کی ریالٹی نہیں مل رہی، ہماری اسمبلی میں بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا سپیکر کے رولنگ کے باوجود ریالٹی دینے میں کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے، اگر ہماری بات نہیں مانی جا رہی تو کم از کم سپیکر اپنی کرسی کی مان تو رکھے،کوہاٹ کے ایم پیز کے بعد پشاور کے ایم پی اے بھی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔اس سے پہلے اسمبلی اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک ہیلتھ آرڈیننس 2017بھی پیش کر دیا گیا۔ جبکہ خیبر پختونخوا پراسیکیوشن سروس کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2016بھی ایوان میں پیش کر دیا گیا۔ڈپٹی سپیکر نے اجلاس آج 3 بجے تک ملتوی کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…