جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’منی ہی نہیں بدنام ہوئی پورا ٹبر بدنام ہو گیا‘‘ شیخ رشید پانامہ کیس سماعت سے پہلے کیا کچھ کہہ گئے؟

datetime 18  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ 22ایم این ایز کو معمولی معاملات پر نا اہل کر چکی ہے نواز شریف کو آرٹیکل 62Fکے تحت نا اہل قرار دیا جائے، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے وزیراعظم نواز شریف پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے

کہا کہ جب سے نواز شریف اقتدار کے ایوانوں میں ہیں اپنے بچوں کیلئے مال بناتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی تاخیری حربے استعمال کا رہی ہے، نواز شریف کو آرٹیکل 62Fکے تحت نا اہل قرار دیا جائے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے وزیراعظم نواز شریف کا نام لئے بغیر کہا کہ پاکستان کے اداروں کو تباہ مت کرو، جرنیلوں سے پنگا نہ لو بلکہ سپریم کورٹ کے آگے سرنگوں ہو جائوں، انہوں نے جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی نمائندے بریگیڈئیر نعمان پر پانامہ جے آئی ٹی عملدرآمد کیس میں جے آئی ٹی پر نواز شریف کی طرف سے اعتراضات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بریگیڈئیر نعمان اگر ڈان لیکس تحقیقات میں شامل ہو تو اسے خراج تحسین، پٹھان کوٹ واقعہ کی جے آئی ٹی میں بھی بریگیڈئیر نعمان کی تعریف مگر جب معاملہ شریف خاندان کا آ جائے تو کہا جاتا ہے کہ وہ بندہ تو آئی ایس آئی کا ملازم ہی نہیں وہ تو کنٹریکٹ پر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف پر 19کیسز تھے، جن میں ابھی تک صرف 2کا ٹرائل ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ نواز شریف کو سارے کیسوں میں معاف کر دیں مگر عدالت کے سامنے جھوٹ بولنے اور جعلی دستاویز دینے پر معافی نہیں ہونی چاہیے۔آخر میں شیخ رشید نے اپنے روایتی انداز میں کہا کہ منی ہی نہیں بدنام ہوئی بلکہ منی کا پورا ٹبر بدنام ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…