جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

افغان فوج کی فائرنگ سے متاثر ہونیوالوں کیلئے پاک فوج نے بڑا کام کردکھایا

datetime 29  مئی‬‮  2017 |

راولپنڈی(آئی این پی ) کمانڈرسدرن کمانڈلیفٹیننٹ جنرل عامرریاض نے کہا ہے کہ پاک فوج افغان فائرنگ سے متاثرہونیوالے تمام افرادکاخیال رکھے گی،شہداکے بچوں کوایف سی کیاسکولوں میں مفت تعلیم دی جائیگی، ایف سی ہیڈکوارٹرزمتاثرین میں 25 ملین روپے تقسیم کرچکی ہے،متاثرین میں ریلیف پیکج تقسیم کیے گئے،شہدا کے لواحقین میں 34لاکھ نقداور1.42 ٹن راشن تقسیم کیاگیا۔

پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق 5 مئی کو افغان فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے دوران مقامی افراد کی جانب سے دی گئی قربانیوں کے اعتراف میں چمن میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے خصوصی طور پر شرکت کی اور شہدا کے لواحقین کو یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج 5مئی کے واقعے کے متاثرہ شہریوں کا ہر ممکن خیال رکھے گی۔ اس موقع پر افغان جارحیت کے متاثرین میں خصوصی ریلیف پیکیج بھی تقسیم کیا گیا اور متاثرین کو 34 لاکھ روپے نقد رقم اور 1428 کلوگرام راشن بھی تقسیم کیاگیا ۔ اس سے پہلے ایف سی کی جانب سے بھی دونوں دیہاتوں میں ڈھائی کروڑروپے نقد رقم کی امداد تقسیم کی جا چکی ہے، اس کے علاوہ ایف سی کے سکولوں میں شہدا کے بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔ تقریب میں صوبائی حکومت کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور سانحہ چمن کے متاثرین کیلئے خصوصی امداد فراہم کی۔ سول انتظامیہ نے پاک آرمی اور ایف سی کا شکریہ بھی ادا کیا۔واضح رہے کہ مردم شماری کے درون چمن افغان باڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ سے46افراد زخمی اور 9شہری شہید ہو گئے، پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی تین چوکیاں تباہ. چمن میں افغان فورسز کی پاک فوج کی چیک پوسٹ پر بلاجواز فائرنگ اور گولہ باری شروع کردی جس کے نتیجے میں  46افراد زخمی  جبکہ 9شہید ہو گئے جس کے بعد اس بارڈرپرحالات کشیدہ ہوگئے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…