جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر پابندیاں ،بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 24  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر داخلہ نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو تعمیری اور قومیت سازی کیلئے استعمال کرنے کی غرض سے ضابطے کے تحت لانے کا طریقہ کار وضع کریں۔بدھ کو یہاں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی اورنادرا کو ہدایت کی کہ وہ اس مقصد کیلئے سروس پروائیڈرز ، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سمیت تمام فریقوں سے مشاورت کریں۔

وزیر داخلہ نے دفتر خارجہ سے بھی کہا کہ وہ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے رابطہ کریں اور سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت کے معاملے پر او آئی سی کی سطح پر اجلاس بلائیں۔اجلاس میں سیکرٹری داخلہ،چیئرمین پی ٹی اے،ایڈوکیٹ جنرل، چیئرمین نادرا، آئی جی اسلام آباد پولیس، ایف آئی اے ، اسلام آباد پولیس ، نادرا اور وزارت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی احساس ذمہ داری سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جعلی صارفین کو جھوٹے سوشل میڈیا اکاونٹس کے ذریعے دوسرے کے جذبات کو مجروح کرنے کی اجازت دی جاسکتی۔ وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکے مثبت استعمال کو یقینی بنانے کیلئے فریم ورک کی تشکیل پر اتفاق رائے کیلئے سپیکر قومی اسمبلی سے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ وزیرداخلہ نے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) اور پی ٹی اے کے چئیرمینز کو ہدایت کی ہے کہ وہ پڑوسی جمہوری اورترقی یافتہ ممالک میں متعلقہ قوانین اورریگولیٹری فریم ورکس کا جائزہ لیں تاکہ ایسا نظام وضع کیا جاسکے جس میں آزادی اظہار رائے کی آڑ میں سوشل میڈیا کے بے لگام غلط استعمال کی نگرانی یقینی بنائی جاسکے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے چئیرمین پی ٹی اے کو خدمات فراہم کرنے والے اداروں(سروس پرووائیڈرز)

، سول سوسائٹی اور مرکزی دھارے میں شامل میڈیا سمیت تمام شراکت داروں کے ساتھ مشاورت اور قانونی فریم ورک کے مطابق رہنماء4 اصول وضع کرنے کی ہدایت کی تاکہ سوشل میڈیا کے تعمیری مقاصد اور قوم سازی میں مثبت کردار کے استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرداخلہ نے دفترخارجہ کو سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے ایشو پر اسلامی تعاون کی تنظیم (اوآئی سی) کے سیکرٹری جنرل سے اوآئی سی کی سطح پر اجلاس کے انعقاد، جس کا انہوں نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران وزیر داخلہ سے ملاقات میں وعدہ کیا تھا ، کے بارے میں رابطہ کرنے کوکہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اس ایشو پر اسلامی تعاون کی تنظیم کی کانفرنس کی میزبانی کیلئے تیار ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ جمہوری حکومت کے ناطے شہریوں کی آزادی اظہار رائے کا تحفظ یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ہم پر ملک کے آئین اورقانون کے مطابق سوشل میڈیا پر آزادی اظہار رائے کے نام پر شہریوں اوراداروں پر حملوں کو روکنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے ۔

وزیرداخلہ نے کہاکہ سوشل میڈیا پر چند حلقوں کی جانب سے بعض اوقات تباہ کن پراپیگنڈے سے ہمارے سماجی و ثقافتی اقدار،اداروں اور نئی نسل کیلئے خطرات پرکوئی بھی باضمیر انسان خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ آزادی اظہار رائے کا حق ذمہ داری اورملکیت سے منسلک ہے۔نامعلوم صارفین جعلی آئی ڈیز سے آزادی اظہاررائے کی آڑ میں دوسرے کے حقوق بے خوفی سے پامال کررہے ہیں، اس طرح کے عناصر کے غیردانشمندانہ اورنامعقول اقدامات سے دیگر لوگ متاثر ہوتے ہیں۔وزیرداخلہ نے معیاری طریقہ ہائے کار(ایس اوپیز) کا ابتدائی مسودہ ایک ہفتے تک تیارکرنے کی ہدایت کی تاکہ اس پر مزید غور کیا جاسکے۔

وزیرداخلہ کی ہدایت پر وزارت داخلہ کی طرف سے بین الاقوامی این جی اوز کی رجسٹریشن کے حوالے سے فریم ورک سے متعلق معاملے پر وزیرداخلہ نے ہدایت کی کہ وہ اس ضمن میں زیرالتواء درخواستوں پرفیصلوں کیلئے ایک ماہ کے اندر طریقہ کاروضع کرے۔وزیرداخلہ نے بین الاقوامی این جی اوز کی رجسٹریشن میں سہولت فراہم کرنے کیلئے سیکرٹری داخلہ کو نادرا کے تعاون سے وزارت داخلہ میں ونگ کے قیام کی بھی ہدایت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…