منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

’’خبردار ۔ ۔کل کوئی بے وقوف نہ بن جائے‘‘

datetime 31  مارچ‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں کل ( ہفتہ) یکم اپریل کو جھوٹ بولنے کا دن ’’ اپریل فول ‘‘ منایا جائے گا ۔اس روز دوستوں، عزیز رشتہ داروں اور پڑوسیوں کی جانب سے آنے والی کسی بھی اطلاع، موبائل کال یا خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کر لی جائے کیونکہ غیر سنجیدہ لوگوں کی جھوٹی حرکت سے آپ کو شرمندگی اور نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ہے۔ اپریل فول کی ابتدا ء یورپ سے ہوئی جس

کو 1539 ء میں عروج حاصل ہوا اور بعد میں اس نے تہوار کی شکل اختیار کر لی۔ سولہویں صدی کے آخر تک نیا سال مارچ کے آخر میں شروع ہوتا تھا۔ نئے سال کی آمد پر لوگ تحائف کا تبادلہ کرتے تھے۔ فرانس کے بادشاہ نے جب کیلنڈر کی تبدیلی کا حکم دیا کہ نیا سال مارچ کی بجائے جنوری سے شروع ہوا کرے تو غیر ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اس تبدیلی کا علم نہ ہو سکا اور وہ بدستور یکم اپریل کو ہی نئے سال کی تقاریب مناتے رہے اور باہم تحائف کا تبادلہ بھی جاری رہا۔ اسی بنا ئپر ان لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا جنھیں اس تبدیلی کا علم تھا اور انہیں اپریل فول کے طنزیہ نام سے پکارنے لگے۔ آہستہ آہستہ یہ روایت بن گیا اور اب دنیا بھر میں یہ دن باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق قدیم رومی قوم موسم بہار کی آمد پر شراب کے دیوتا کی پرستش کرتی اور اسے خوش کرنے کیلئے لوگ شراب پی کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیتے تھے۔ یہ جھوٹ رفتہ رفتہ اپریل فول کا ایک اہم حصہ بن گیا۔ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا نے اس کی تاریخی حیثیت پر مختلف انداز سے روشنی ڈالی ہے۔ بعض مصنفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترہویں صدی کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا۔ اس مہینے کو رومی اپنی دیوی وینس کی طرف منسوب کر کے مقدس سمجھا کرتے تھے۔ چونکہ یہ سال کا پہلا دن ہوتا تھا اس لئے خوشی

میں اس دن کو جشن کے طور پر منایا کرتے تھے اور اظہار خوشی کے لئے آپس میں مذاق کیا کرتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…