منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

دودھ کے نام پر ٹی وائٹنربیچنے والی کمپنیوں کے کھیل کا ڈراپ سین،زبردست قدم اُٹھالیاگیا

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی ) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کو صحت مند اور میعاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ٹی وائٹنر بنانے والی کمپنیوں کو ڈبے کے 15فی صد حصے پر واضح ‘یہ دودھ نہیں ہے ‘کی ہدایت لکھنے کی حتمی وارننگ جاری کر دی ہے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وائٹنربنانے والی تمام کمپنیوں کو متنبہ کیا جا چکا

ہے کہ پیکنگ والے ڈبوں کے 15فی صد حصے پر واضح طور پر درج کیا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے۔اس حوالے سے تما م سٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے یکم جون کی حتمی ڈیڈ لائن مقر کی گئی ہے۔تمام کمپنیوں کو پیکنگ مٹیریل دیے گئے میعار کے مطابق تیار کروانے اور موجودہ سٹاک ختم کرنے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔یکم جون تک سٹاک ختم نا ہونے کی صورت میں ڈبوں پرہدایات کا سٹیکر لگا کرفروخت کرنا ہو گا۔ نورالامین مینگل نے مزید بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی تحقیقات میں یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ ٹی وائٹنر کی مبہم پیکنگ اور اشتہارات کی وجہ سے اکثر لوگ ٹی وائٹنر کو دودھ سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں جس کا ان کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ کم علمی کی وجہ سے ٹی وائٹنربچوں کو دودھ سمجھ کر استعمال کروایا جارہا ہے جس کی وجہ سے بچوں میں غذائیت کی کمی اور مختلف مسائل پیدا ہو رے ہیں۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ خالص دودھ ہی غذائی ،جسمانی اور ذہنی نشوونما کی ضروریات پوری کر سکتا ہے ۔ویجیٹیبل فیٹ سے بنے ٹی وائٹنرکو دودھ یا اس کا متبادل کہنا یا استعمال کرنا درست نہیں ۔ لیبل پر واضح ہدایات درج کرنے سے ٹی وائٹنر کو غلطی یا کم علمی کی وجہ سے دودھ سمجھ کر استعمال کرنے کے واقعات میں کمی آئے گی۔ اس حوالے سے تعاون نا کرنے والی کمپنیوں کا سٹاک ضبط، قانون کے مطابق سزا اور جرمانے کے ساتھ ساتھ لائسنس منسوخی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…