بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

دودھ کے نام پر ٹی وائٹنربیچنے والی کمپنیوں کے کھیل کا ڈراپ سین،زبردست قدم اُٹھالیاگیا

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی ) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کو صحت مند اور میعاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ٹی وائٹنر بنانے والی کمپنیوں کو ڈبے کے 15فی صد حصے پر واضح ‘یہ دودھ نہیں ہے ‘کی ہدایت لکھنے کی حتمی وارننگ جاری کر دی ہے۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹی وائٹنربنانے والی تمام کمپنیوں کو متنبہ کیا جا چکا

ہے کہ پیکنگ والے ڈبوں کے 15فی صد حصے پر واضح طور پر درج کیا جائے کہ یہ دودھ نہیں ہے۔اس حوالے سے تما م سٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے یکم جون کی حتمی ڈیڈ لائن مقر کی گئی ہے۔تمام کمپنیوں کو پیکنگ مٹیریل دیے گئے میعار کے مطابق تیار کروانے اور موجودہ سٹاک ختم کرنے کے لیے مہلت دی گئی ہے۔یکم جون تک سٹاک ختم نا ہونے کی صورت میں ڈبوں پرہدایات کا سٹیکر لگا کرفروخت کرنا ہو گا۔ نورالامین مینگل نے مزید بتایا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی تحقیقات میں یہ حقیقت سامنے آئی تھی کہ ٹی وائٹنر کی مبہم پیکنگ اور اشتہارات کی وجہ سے اکثر لوگ ٹی وائٹنر کو دودھ سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں جس کا ان کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ کم علمی کی وجہ سے ٹی وائٹنربچوں کو دودھ سمجھ کر استعمال کروایا جارہا ہے جس کی وجہ سے بچوں میں غذائیت کی کمی اور مختلف مسائل پیدا ہو رے ہیں۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ خالص دودھ ہی غذائی ،جسمانی اور ذہنی نشوونما کی ضروریات پوری کر سکتا ہے ۔ویجیٹیبل فیٹ سے بنے ٹی وائٹنرکو دودھ یا اس کا متبادل کہنا یا استعمال کرنا درست نہیں ۔ لیبل پر واضح ہدایات درج کرنے سے ٹی وائٹنر کو غلطی یا کم علمی کی وجہ سے دودھ سمجھ کر استعمال کرنے کے واقعات میں کمی آئے گی۔ اس حوالے سے تعاون نا کرنے والی کمپنیوں کا سٹاک ضبط، قانون کے مطابق سزا اور جرمانے کے ساتھ ساتھ لائسنس منسوخی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…