جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

عمران خان کواپنے الفاظ پر کنٹرول نہیں، ساتھ رہنا میری مجبوری۔۔شیخ رشید کے بیان نے ہلچل مچا دی

datetime 11  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ آصف زرداری کے کندھے مضبوط نہیں ، سرخ قالین نواز شریف کا نہیں رہا، فضل الرحمان کا سیاسی خون او پازیٹیو ہے جبکہ عمران خان کو اپنے الفاظ پر کنٹرول نہیں۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے سابق صدر آصف علی زرداری بارے اپنا سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ

آصف زرداری کے کندھے اب اتنے مضبوط نہیں رہے ہیں وہ جو لڑائی لڑ رہے ہیں اسے چھوڑ دیں۔ پانامہ کیس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی سرخ قالین اب ان کی نہیں رہی بہت جلد ان سے چھن جائے گی۔ قومی اسمبلی دنگل بن چکی ۔ ن لیگ کی سینٹ میں مارچ کے مہینے میں برتری ہو جائے گی ۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ مشرف دور میں وزارتوں کے مزے لیتے رہے وہ اب نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ریلو کٹے اور پھٹیچر قسم کے لوگ نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے میں ن اور قانون دونوں میں سے کسی ایک کی جیت ہوگی۔ڈان لیکس سکینڈل پر انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا فوج اور ن لیگ میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہیں۔ شیخ رشید نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سےکہا کہ فضل الرحمان کا سیاسی خون او پازیٹیو ہے ہر حکومت کو لگ جاتا ہے۔ ’’گو نواز گو‘‘ قومی نعرہ بن چکا ۔لوٹی ہوئی رقم بیرون ملک سے واپس لانے کے حوالے سے سوئس حکام سے معاہدوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔عمران خان کے ساتھ رہنا میری مجبوری ہے میںاپنی دوستی کی وجہ سے عمران خان کے ساتھ ہوں۔ عمران خان کو اپنے الفاظ پر کنٹرول نہیں ہے وہ الفاظ کا کھیل نہیں جانتے۔ اپنے حوالے سے بات کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا کہ موت میری محبوبہ ہے مجھے کسی سے خوف نہیں ہے۔ قذافی سٹیڈیم شیخ رشید زندہ باد کے نعروں سے گونجتا رہا جنہیں سن کر میں خوشی سے جھوم اٹھاتھا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…