جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پاکستانی خاتون قومی شناختی کارڈ بنوانے گئی تو اسے پتہ چلاکہ وہ تو مر چکی ہے ۔۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی ، اس کے بعد کیا ہوا ؟ حیران کن انکشافات

datetime 7  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نادرا کی طرف سے مردہ قرار دی گئی خاتون پانچ سالوں سے دھکے کھانے کے باوجود ملک بھر کے دفتروں میں خود کو زندہ ثابت کرنے میں ناکام ہو گئی، تفصیلات کے مطابق دریاخان کے نواحی علاقہ کہاوڑ کلاں کے رہائشی دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے غلام شبیر نام کے شہریوں کی بیویوں کے نام بھی اتفاق سے ایک ہی جیسے تھے، جن میں سے ایک خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم جکھڑ 10نومبر 2012 کو طبعی طور فوت ہو گئی جس کا اندراج فوتگی یونین کونسل کہاوڑ کلاں میں اس کے بیٹے جہانگیر احمد نے درج کرواتے ہوئے باضابطہ کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ متوفیہ کی ہم نام دوسری خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم ارائیں نے قومی شناختی کارڈ کی مدت میعاد ختم ہونے پر نئے شناختی کارڈ کیلئے نادرا سنٹر دریا خان سے رجوع کیا، نادرا دفتر نے خنائی مائی کو ٹوکن نمبر 108301043761/52 جاری کیا، مگر بعد ازاں مقررہ وقت پر کارڈ جاری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا گیا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق مذکورہ خاتون وفات پاچکی ہے، متاثرہ خاتون کے شوہر نے صورتحال کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کہاوڑ کلاں کی رہائشی دوسری خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم جکھڑ کو نادرا کی طرف سے جاری کیا گیا شناختی کارڈ اس کی زوجہ کے آئی ڈی نمبر کے مطابق جاری کردیا گیا، جو مذکورہ کی وفات کے اندراج کی صورت میں بلاک کردیا گیا، زندہ خنائی مائی گزشتہ پانچ سال سے نادراکی نااہلی سے کھو جانے والی اپنی قومی شناخت کے حصول کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہے، جائیداد کی منتقلی، عمرہ وحج کی ادائیگی کیلئے بیرون ملک سفر سمیت شوہر کی پنشن کے حق سے بھی محرومی نے خاتون کی پریشانیوں میں اضافہ کردیاہے، نادرا کے ہر سطح کے حکام نے زندہ خاتون کواس کے بنیادی آئینی حق کی فراہمی سے مکمل معذوری ظاہر کردی ہے، سیکرٹری یونین کونسل کہاوڑ کلاں بشیر حسین نے تصدیق کرتے ہوئے کہا نادرا اہلکاروں کی نااہلی کے باعث زندہ خاتون کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…