پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

پاکستانی خاتون قومی شناختی کارڈ بنوانے گئی تو اسے پتہ چلاکہ وہ تو مر چکی ہے ۔۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی ، اس کے بعد کیا ہوا ؟ حیران کن انکشافات

datetime 7  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نادرا کی طرف سے مردہ قرار دی گئی خاتون پانچ سالوں سے دھکے کھانے کے باوجود ملک بھر کے دفتروں میں خود کو زندہ ثابت کرنے میں ناکام ہو گئی، تفصیلات کے مطابق دریاخان کے نواحی علاقہ کہاوڑ کلاں کے رہائشی دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے غلام شبیر نام کے شہریوں کی بیویوں کے نام بھی اتفاق سے ایک ہی جیسے تھے، جن میں سے ایک خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم جکھڑ 10نومبر 2012 کو طبعی طور فوت ہو گئی جس کا اندراج فوتگی یونین کونسل کہاوڑ کلاں میں اس کے بیٹے جہانگیر احمد نے درج کرواتے ہوئے باضابطہ کمپیوٹرائزڈ ڈیتھ سرٹیفکیٹ حاصل کیا، جبکہ متوفیہ کی ہم نام دوسری خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم ارائیں نے قومی شناختی کارڈ کی مدت میعاد ختم ہونے پر نئے شناختی کارڈ کیلئے نادرا سنٹر دریا خان سے رجوع کیا، نادرا دفتر نے خنائی مائی کو ٹوکن نمبر 108301043761/52 جاری کیا، مگر بعد ازاں مقررہ وقت پر کارڈ جاری کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا گیا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق مذکورہ خاتون وفات پاچکی ہے، متاثرہ خاتون کے شوہر نے صورتحال کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کہاوڑ کلاں کی رہائشی دوسری خاتون خنائی مائی بیوہ غلام شبیر قوم جکھڑ کو نادرا کی طرف سے جاری کیا گیا شناختی کارڈ اس کی زوجہ کے آئی ڈی نمبر کے مطابق جاری کردیا گیا، جو مذکورہ کی وفات کے اندراج کی صورت میں بلاک کردیا گیا، زندہ خنائی مائی گزشتہ پانچ سال سے نادراکی نااہلی سے کھو جانے والی اپنی قومی شناخت کے حصول کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہی ہے، جائیداد کی منتقلی، عمرہ وحج کی ادائیگی کیلئے بیرون ملک سفر سمیت شوہر کی پنشن کے حق سے بھی محرومی نے خاتون کی پریشانیوں میں اضافہ کردیاہے، نادرا کے ہر سطح کے حکام نے زندہ خاتون کواس کے بنیادی آئینی حق کی فراہمی سے مکمل معذوری ظاہر کردی ہے، سیکرٹری یونین کونسل کہاوڑ کلاں بشیر حسین نے تصدیق کرتے ہوئے کہا نادرا اہلکاروں کی نااہلی کے باعث زندہ خاتون کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…