نئے دور کی شروعات،پاکستان اور روس اب کیا کرنیوالے ہیں؟روسی سفیرجی ڈیوف کے زبردست انکشافات

  اتوار‬‮ 25 دسمبر‬‮ 2016  |  22:04

اسلام آباد (آئی این پی )اسلام آباد میں متعینہ روسی سفیر الیکسی جی ڈ یوف نے ریڈیو پاکستان کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے ، وہ بد قسمتی سے تکلیف دہ ہے کیونکہ اس سے ہمیں پرامید ی کا احساس نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تین اہم عوامل کا فقدان ہے ان میں مستحکم خود کفالت والی معیشت ، گڈگورننس اور مضبوط فوج ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ، روسی اور چینی اہلکاروں نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ افغانستان کے شورش زدہ سرحدی علاقوں میں دولت


اسلامیہ سے وابستہ گروپوں کا وجود میں آنے اور سلامتی کی صورتحال میں ابتری کے پیش نظر اس بات کی ضرورت ہے کہ دہشتگردی کے ’’ پھیلاؤ کے اثرات ‘‘ کامقابلہ کرنے کیلئے ’’ علاقائی انسداددہشتگردی ڈھانچہ ‘‘ قائم کرنے کے پیش نظر سہ فریقی صلاح مشورے کئے جائیں ۔ روسی سفیر نے کہا کہ روس نے چین پاکستان اکنامک راہداری منصوبے کی پرزور حمایت کی ہے کیونکہ یہ پاکستان کی معیشت اور علاقائی رابطے کیلئے اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک چین کی شاہراہ ریشم کا حصہ ہے اور ان کا ملک بھی اسی قسم کے یوریشین اقتصادی یونین پر کام کررہا ہے اور چین اور روس ان دونوں منصوبوں کو مدغم کرنے پر مذاکرات کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بالخصوص داعش (دولت اسلامیہ کا عربی تلفظ )کے پھیلاؤ کے بارے میں خاص طورپر تشویش لاحق ہے یہ گروپ افغانستان کے ان بعض شمالی علاقوں میں اپنا اثر رسوخ پھیلا رہا ہے جن کی سرحدیں ہمارے برادر وسطی ایشیائی جمہورتیوں میں ہمارے حلیفوں کے علاقوں کے ساتھ ملتی ہے ،جی ڈیوف نے ان اخباری اطلاعات کو ’’ مضحکہ خیز ‘‘ قراردے کر مسترد کر دیا کہ روس افغانستان میں امریکی قیادت والی فوجوں کیخلاف لڑائی میں طالبان کی مدد کررہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں (طالبان ) کو کبھی بھی کسی قسم کی امداد فراہم کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس روس افغان حکومت کی مدد کررہا ہے اور اس کی فورسز کو ’’ بعض حلقے ہتھیار ‘‘ دیئے ہیں اور روسی اداروں میں افغان پولیس اور فوجی اہلکاروں کو تربیت دینے کے پروگراموں پر عمل کررہا ہے ۔ جی ڈیوف نے مزید کہا کہ ماسکو افغان امن اور مصلحت عمل کی زبردست حمایت کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سلامتی کی صورتحال میں بہتری روس کے مفاد میں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہاں (افغان امن کوششوں ) میں پیشرفت دکھائی دینا انتہائی مشکل ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے لہذا میرے خیال میں افغان امور کے بارے میں ماسکو میں آنیوالے دو ہفتو ں میں انتہائی اچھا غور و خوض ہو گا ۔ایک اور سوال کے جوا ب میں روسی سفیر نے کہا کہ روس نے چین پاکستان اکنامک راہداری منصوبے کی پرزور حمایت کی ہے کیونکہ یہ پاکستان کی معیشت اور علاقائی رابطے کیلئے اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک چین کی شاہراہ ریشم کا حصہ ہے اور ان کا ملک بھی اسی قسم کے یوریشین اقتصادی یونین پر کام کررہا ہے اور چین اور روس ان دونوں منصوبوں کو مدغم کرنے پر مذاکرات کررہے ہیں ۔روس، پاکستان اور چین منگل کو علاقائی امور کے بارے میں ماسکو میں سہ طریقی انسداد دہشتگردی مذاکرات کا آئندہ دور منعقد کرینگے جس میں بنیادی طورپر بحران زدہ افغانستان پر توجہ مبذول کی جائے گی ، یہ ’’ افغانستان کے بارے میں سہ فریقی ورکنگ گروپ کا بیجنگ اور اسلام آباد میں اجلاسوں کے بعد تیسرا اجلاس ہو گا ۔ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں اس مسئلہ کے بارے میں وسیع تر علاقائی پارٹنر شپ قائم کرنے کی زمین ہموار کی جائے گی ۔ذرائع کے مطابق یہ بات علاقائی سٹیک ہولڈرز کے ’’ قدرتی مفاد ‘‘ میں ہے کہ دہشتگردی کے پھیلاؤ سے خود تک کا تحفظ کرے ۔ ذرائع نے مزید کہا کہ دہشتگردی کو روکنے کی کوششیں افغان ۔ریجنل ‘‘ پراجیکٹ کی صورت میں ہونی چاہئیں ۔

موضوعات:

loading...