پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

پاک چین اقتصادی راہداری،برطانیہ نے بھی پاکستان کو خوشخبری سنادی

datetime 14  دسمبر‬‮  2016 |

کراچی ( این این آئی ) پاکستان میں تعینات برطانیہ کی ڈپٹی ہائی کمشنر بلینڈا لیوس نے کہا ہے کہ کئی برطانوی کمپنیاں پاکستان میں کاروبار شروع کرنے میں دلچسپی لے رہی ہیں، اس وقت پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 2.3 بلین ڈالرز ہے ،پاکستانی ٹیکسٹائل بہتر کوالٹی کی وجہ سے برطانوی مارکیٹ میں مقبول ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ شب مندیاگروپ آف کمپنیز کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ کے موقع پرمیڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔

برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان میں مڈل کلاس طبقہ بڑھ رہا ہے ، جس کی وجہ سے اس کی مارکیٹ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف اشیاء کی طلب بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعلقات مزید بہتر ہو رہے ہیں ۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 2.3 بلین ڈالرز ہے اور دوطرفہ تجارت میں مزید اضافہ متوقع ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل بہتر کوالٹی کی وجہ سے برطانوی مارکیٹ میں مقبول ہے ۔ چین اور پاکستان کے اکنامک کوریڈور کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے ۔ برطانیہ انفراسٹرکچر ، فنانس ، اکاؤنٹنگ ، پروجیکٹ مینجمنٹ سمیت کئی شعبوں میں مہارت رکھتا ہے ۔ ہم اس بارے میں غور کر رہے ہیں کہ اس منصوبے کے کن کن شعبوں میں مواقع حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس موقع پر مندیا گروپ کے چیئرمین محمد الیاس مندیا ، محمد جنید مندیا اور باسط مندیا نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کو شیلڈز پیش کیں ،عشائیے میں سندھ کے وزیر برائے اسپورٹس محمد بخش مہر ، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شمیم فرپو ، سابق صدر یونس بشیر ، سابق وفاقی وزیر انصار برنی ، روس ، سوئٹزرلینڈ ، کوریا اور جاپان کے قونصل جنرلز سمیت کاروباری شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…