جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

پڑھیں صبح صبح خوشی کی خبر

datetime 5  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آن لائن) وزیر اعظم نواز شریف دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فنانسنگ پلان کی منظوری دیتے ہوئے مالیاتی تجاویز کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ آئندہ سال کے آخر تک ڈیم کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے ۔پیر کے روز وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فناسنگ پلان کا اجلاس ہوا اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف نے دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فنانسنگ پلان کی اصولی منظوری دے دی ۔ سیکرٹری پانی و بجلی نے دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے فنانسنگ پلان پیش کیا اجلاس میں وزارت پانی و بجلی نے دیامیر بھاشا ڈیم کو اپنے وسائل سے مکمل کرنے کی تجویز دی ۔ پی ایس ڈی پی فنڈز اور واپڈا کے وسائل کے ذریعے ڈیم تعمیر کیا جائے گا ۔وزیر اعظم نے سیکرٹری خزانہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی تجاویز کو جلد حتمی شکل دی جائے اور آئندہ سال کے آخر تک ڈیم کی تعمیر شروع ہو جانی چاہیے، ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے اراضی کا حصول خوش آئند ہے اراضی کا حصول وزارت پانی و بجلی اور گلگت بلتستان انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا،ا جلاس میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ بھاشا ڈیم کی منظوری مشترکہ مفادات کونسل نے 2009 میں دی تھی ملک میں آبی ذخائر کی تعمیر وقت کی ضرورت ہے آبی ذخائر سے ملک میں پانی کی قلت کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد ملے گی ۔ دیامیر بھاشا ڈیم میں 8.7 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی۔ ڈیم سے 4500 میگاواٹ ستی اور ماحول دوست مہیا ہو گی، دیا میر بھاشا ڈیم مکمل طور پر ملکی وسال سے تعمیر کیا جائے گا ،اس منصوبے کے لیے واپڈا وسائل پیدا کرے گا جبکہ بجلی کی پیدا وار کے لیے باقی فنانسنگ کا بندوبست کمرشل بنیادوں پر ہو گا جس کے لیے وزارت پانی و بجلی یاتو واپڈا سے پیسے لے گی یا پراجیکٹ کی لیزنگ سے فنڈز سے رقوم حاصل کی جائیگی ۔ وزیراعظم نواز شریف نے سیکرٹری پانی و بجلی ،منصوبہ بندی اور خزانہ کو سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت تاکہ دیا میر بھاشا ڈیم منصوبے کو 2017میں مکمل کیا جا سکے ۔دیا میر بھا شا ڈیم 2009میں
منظور ہوا تھا جو کہ 45سو میگا واٹس بجلی فراہم کرے گا ۔۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…