جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

راؤ انوار کی معطلی ، ن لیگ اورتحریک انصاف آمنے سامنے ،ایک دوسرے پر سنگین الزامات ،ن لیگی رہنماپی ٹی آئی پروزیراعظم کے احسانات جتاتے رہے

datetime 18  ستمبر‬‮  2016 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی میں ایم کیوایم پاکستان کے رہنما اورسندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرخواجہ اظہارالحسن کوگرفتارکرنے والے ایس ایس پی ملیررائوانواراب سیاسی صورتحال اختیارکرگیاہے ۔ایس ایس پی رائوانوارکوخواجہ اظہارالحسن کوگرفتارکرنے پرمعطل کردیاگیاہے لیکن معطل ایس ایس پی ملیرراؤ انوار کے خلاف ایکشن لینے پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن آمنے سامنےآگئیں ۔پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ خواجہ اظہارالحسن کی گرفتاری پر وزیر اعظم نے سیاسی مداخلت کی ، انہیں چھڑانے کے لیے وزیراعلیٰ کو مجبور کیا ۔ جس کے ردعمل میں مسلم لیگ (ن)کے رہنما اوررکن قومی اسمبلی طلال چودھری نے کہاکہ سیاسی مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا وزیر اعظم کی پالیسی نہیں ، وزیراعظم نے ہی تو پی ٹی آئی ارکان کے استعفے بھی رکوائے تھے۔ راو انوار کو معطل سندھ حکومت نے کیا مگر ان کی معطلی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور عمران خان آمنے سامنے آ گئے۔ عمران خان نے کراچی کے معطل ایس ایس پی راو انوار کی حمایت کر دی۔ کہا ہے کہ خواجہ اظہارالحسن کی گرفتاری میں وزیراعظم نے مداخلت کر کے اسے سیاست زدہ بنا دیا۔ جواب میں طلال چودھری نے کہا کہ وزیراعظم کسی سیاسی جماعت سے زیادتی نہیں ہونے دیتے۔ خود تحریک انصاف پر بھی انہوں نے کرم فرمائی کی تھی اورآج تحریک انصاف قومی اسمبلی میں دوسری بڑی اپوزیشن جماعت ہے اورسینیٹ میں بھی اس کے ممبران ہیں اگروزیراعظم اپنی سیاسی بصیرت سے کام نہ لیتے توآج عمران خان کی کے پی کے میں حکومت بھی نہ ہوتی جبکہ عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس میں ایسی سیاسی مداخلت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ راو انوار قانون کے مطابق اپنی پیشہ وارانہ ڈیوٹی کر رہا تھا۔ وزیراعظم نے خواجہ اظہار کو چھڑانے اور پھر ایس ایس پی کو معطل کرنے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو مجبور کیا۔ اس پر طلال چودھری نے کہا کہ عمران خان خود لاقانونیت میں ملوث رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اسلام آبادکے دھرنے میں سول نافرمانی کا نعرہ عمران خان کے علاوہ کسی نے نہیں لگایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…