جمعرات‬‮ ، 07 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایم کیو ایم بانی کیخلاف شہر قائد میں ایک دفعہ پھر بڑا اقدام اٹھا لیا گیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2016 |

کراچی(این این آئی)شہر قائد میں گزشتہ روز جو قائد تحریک کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے کے بینرز کے بعد اب جو ملک کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے کے بینرز آویزاں کئے گئے ہیں، گلستان جوہر میں نامعلوم افرد نے مصطفی کمال کی تصاویر اور بینرز پھاڑ دئیے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے مختلف علاقوں میں رات گئے نامعلوم افراد کی جانب سے جو ملک کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے کے بینرز آویزاں کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کی مصروف ترین شاہراہ شارع فیصل کے مختلف مقامات پر حکومت پاکستان کی تلاش کے بھی بینرز لگائے گئے ہیں۔ ان بینرز پر کسی بھی جماعت کے بجائے منجانب اہلیان پاکستان اور اہلیان کراچی تحریر ہے۔

banners-2
دوسری جانب گلستان جوہر میں نامعلوم افرد نے پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال کی تصاویر اور بینرز پھاڑ دئیے ہیں ۔ مصطفی کمال کی تصاویر اور بینرز گزشتہ روز گلستان جوہر میں مختلف شاہراہوں پر لگائے گئے تھے ۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سندھ ہائی کورٹ کے اطراف دن دیہاڑے جو قائد تحریک کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے کے بینرز کے ساتھ صدر ریگل چوک کے قریب ایم کیوایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹرفاروق ستار کے خلاف بھی بینرز لگائے گئے تھے تاہم پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ان بینرز کو ہٹادیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…