جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

نا قابل معافی گناہ ،حکومت نے ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف بڑا قدم اُٹھالیا

datetime 23  اگست‬‮  2016 |

لاہو ر(این این آئی ) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی شر انگیزی کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے برطانیہ سے باضابطہ رابطہ کر لیا ہے ،ملک کا رتبہ ماں کے برابر ہوتاہے ، اسکے خلاف بات نا قابل معافی گناہ ہے ،بولنے والے کو سخت سے سخت قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اچھرہ کے علاقے شیر شاہ کالونی میں لیگی کارکن کی وفات پر اسکے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہحکومت پاکستان نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی شر انگیزی کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ،اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار برطانیہ سے رابطہ بھی کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے خلاف نعرہ لگانا تو دور کی بات ہے کوئی بات بھی کر ے تو اس کوسخت سے سخت قانون کے مطابق سزادینی چاہیے ،یہ نا قابل معافی گناہ ہے ، ملک کا رتبہ ماں کے برابر ہو تا ہے ، اس کے خلاف بولنے والے کیلئے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے ،یہ مسئلہ اتنا سنجیدہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اس پربحث ہونی چاہیے اور مجھے یقین ہے کہ لا زمی ہو گی جس پر ہر جماعت کھل کر اپنا موقف بتائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ پہلے سانحہ کوئٹہ ہوا ور اب یہ ہوگیا تو کیا یہ بھارت کی جانب سے مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لئے تو نہیں کروایا جارہا ؟پاکستان کے خلاف جو بولتا ہے دشمن اس کی پشت پنا ہی کر رہا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر حملے اس لیے ہوئے کہ میڈیا سچ دکھا تا ہے ، میڈیاپر حملے کے ذریعے آواز بند کر نے کی کو شش کی گئی لیکن آواز بند ہونے کی بجائے اس واقعہ نے پو ری قوم کو ملک دشمن عنا صر کے خلاف متحد کر دیا ۔ایم کیو ایم کو اسمبلی میں آکر اس بات کی وضاحت کرنی پڑے گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہے یا کسی اور کے ساتھ ،ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی کو اگر گرفتار کیا گیا تو ان کے عہدوں کی معطلی کافیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا،پاکستان کے خلاف بولنے والے کسی بھی صور ت قبول نہیں ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…