پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کی ناقص حکمت عملی،بڑے خطرے نے سِراُٹھالیا،عوام کابال بال قرضوں میں جکڑنے کا فیصلہ

datetime 12  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت کی ناقص حکمت عملی،بڑے خطرے نے سِراُٹھالیا،عوام کابال بال قرضوں میں جکڑنے کا فیصلہ،آئندہ مالی سال2016-17میں ملکی بجٹ خسارہ 12کھرب76ارب روپے پورا کرنے کے لئے بیرونی قرضہ 2کھرب34ارب روپے اور اندرونی قرضہ 10کھرب41ارب روپے لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال میں پاکستان کا مجموعی اخراجات 4394.7کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں سے کرنٹ اخراجات کے لئے 3400.2 ارب روپے ،وفاقی ترقیاتی فنڈز کے لئے 800ارب روپے اور دیگر اخراجات کے لئے 194.5 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ خسارہ کو پورا کرنے کے لئے اندرو نی و بیرونی قرضوں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بیرونی قرضوں کا حجم ملکی جی ڈی پی کا66فیصد تک پہنچنے کے باعث ملکی مالی اداروں پر نئے قرضوں کا بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ پاکستان کے آئین کے مطابق بیرونی قرضہ ملکی جی ڈی پی کا 60فیصد سے زیادہ نہیں لیا جا سکتا۔اس حوالے سے حکومت نے قومی اسمبلی کو بیرونی قرضہ کے حجم میں اضافے پر اعتماد میں لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔آئندہ مالی سال میں بجٹ خسارہ کو 5.2فیصد سے کم کر کے 4.7فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے تاکہ ملکی بجٹ خسارہ کو کم کیا جا سکے۔اسی طرح آئندہ مالی سال میں ٹیکس محصولات کا ہدف 3104ارب روپے سے بڑھا کر 3621ارب روپے رکھا گیا ہے اور آئندہ بجٹ خسارہ کو پورا کرنے کے لئے ملکی مالی اداروں سے قرضہ 10کھرب41ارب روپے اوربیرونی قرضہ2کھرب34ارب روپے لیا جائے گا۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…