جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

امریکہ کی دوغلی پالیسی, پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار

datetime 14  فروری‬‮  2016 |

واشنگٹن(نیوز ڈیسک) امریکہ کی دوغلی پالیسی ایک بار پھر سامنے آگئی،پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سکیورٹی پر تشویش کا اظہار کردیا جبکہ پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یہ بیان بھارت کو خوش کرنے کیلئے دیا ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے ایف سولہ طیارے دیئے جانے پر بھارت میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے پاکستان کو ایف-16 جنگی طیاروں کی فروخت میں دلچسپی کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کردیا، اس حوالے سے امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی پریشان کن ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھیں تاکہ کشیدگی میں کچھ کمی لائی جاسکے۔پاکستان کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں میں مبینہ اضافے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ان جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش لاحق ہے اور پاکستان کے ساتھ ہونے والی ہر بات چیت میں یہ ہماری بحث کا موضوع ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لیکن ہمارے اس بات کی بھی تشویش ہے جو واضح ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورت حال کشیدہ ہے، اور یہ بھی واضح ہے کہ ہم ان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، جس کی مدد سے کشیدگی میں کچھ کمی آئے گی۔پاکستانی مبصرین کے مطابق امریکہ نے یہ بیان بھارت کو خوش کرنے کیلئے دیا ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے ایف سولہ طیارے دیئے جانے پر بھارت میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان کے خارجہ سیکریٹری اعزاز احمد چوہدری نے ان دعوو¿ں کو مسترد کیا تھا کہ پاکستان کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام تیزی سے پھیل رہا ہے، اور ساتھ ہی اسلام آباد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کی فروخت کی اقوام میں شامل کیے جانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔خارجہ سیکریٹری کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوہری سپلائر گروپ نے بھارت کو ‘امتیازی چھوٹ’ دی ہے اور امریکا بھارت کے درمیان ہونے والا جوہری معاہدہ نئی دہلی کو اس کے ایٹمی مواد میں اضافے اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام کو متاثر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔کارنیگی اور سٹمسن ریسرچ تنظیم کی جانب سے لگائے گئے ایک حالیہ اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس سالانہ 20 جوہری وارہیڈ بنانے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ بھارت سالانہ 5 وارہیڈ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان صرف کم سے کم ایٹمی ڈیٹرنس حاصل کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہمارے ایٹمی ڈیٹرنس اپنے دفاع کے لئے ہیں۔ اس کی حیثیت اسٹیٹس حال کرنے کی نہیں ہے۔انھوں نے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے کی جانے والی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے گزشتہ 15 سالوں سے اٹھائے جانے والے حفاظتی اقدامات کی امریکا نے ‘صاف الفاظ میں’ تعریف کی ہے۔امریکن ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل وینسینٹ سٹیورٹ نے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…