ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

دنیا کے 90 فیصد ٹریفک حادثات کا ذمہ دار ترقی پذیر ممالک کو قرار دیا گیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(این این آئی)دنیا کے 90 فیصد (12 کروڑ 50 لاکھ ) ٹریفک حادثات کا ذمہ دار ترقی پذیر ممالک کو قرار دیا گیا ہے۔گلوبل اسٹیٹس رپورٹ برائے روڈ سیفٹی 2015 کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں سٹرکوں پر ہونے والے ٹریفک حادثات میں ہونے والے ہلاک اور زخمی افراد ان ممالک کے جی ڈی پی میں 5 فیصد خسارے کا باعث بنتے ہیں۔روڈ سیفٹی پر آنے والی یہ رپورٹ اپنی سیریز کی تیسری رپورٹ ہے جو دنیا کے 180 ممالک سے حاصل کئے جانے والے ڈیٹا سے بنائی گئی ۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا اور پیسیفک کے مغربی علاقے میں ہونے والے ایک تہائی ٹریفک حادثات کا سبب موٹر سائیکل ہے۔ادھر دنیا بھر میں ٹریفک حادثات میں موت کا شکار ہونے والے سائیکل سواروں کی تعداد 4 فیصد جبکہ موت کا شکار ہونے والے پیدل مسافروں کی تعداد 22 فیصد ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں فروخت کی جانے والی 80 فیصد گاڑیاں بنیادی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتی، ان ممالک میں کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2010 کے بعد سے 68 ممالک میں ٹریفک حادثات میں اضافہ دیکھا گیا جن میں 84 فیصد حادثات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوئے تھے۔79 ممالک میں اس عرصے کے دوران ٹریفک حادثات میں کمی دیکھی گئی جس میں سے 56 فیصد ممالک کم اور درمیانی آمدنی والے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ قانون سازی، قانون پر عمل درآمد ¾ سٹرکوں کی تعمیر اور گاڑیوں کو محفوظ بنانا ایسے عوامل تھے جن کے باعث بیشتر ممالک میں ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دنیا میں خطے کے لحاظ سے افریقہ میں ٹریفک حادثات کی شرع سب سے زیادہ ہے جبکہ یورپ میں یہ شرع سب سے کم 9.3 فیصد ہے۔خیال رہے کہ امریکہ میں موٹر سائیکل کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں 2010 کے مقابلے میں 2013 میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2013 میں ٹریفک حادثات کی تعداد 12 کروڑ 50 لاکھ رہی جو 2007 سے مستقل ہے اس کے باوجود عالمی طور پر آبادی، موٹرائزیشن اور موت کی پیش گوئی میں اضافہ ہوا ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان ان 80 ممالک میں شامل ہے جن کے پاس اموات رجسٹریشن کا مناسب ڈیٹا موجود نہیں ۔پاکستان کے پاس کسی قسم کی نیشنل روڈ سیفٹی پالیسی اور اموات میں کمی کا ہدف بھی متعین نہیں کیا گیا اس کے علاوہ پاکستان میں موجودہ سٹرکوں کے باقاعدہ معائنہ کا طریقہ کار بھی موجود نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…