پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کانیا سسٹم متعارف

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سمارٹ شناختی کارڈ کے کامیاب اجراءکے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میںگاڑیوں کی رجسٹریشن کانیا سسٹم بھی متعارف کرادیاگیاہے جس کااعلان رواں سال کے شروع میں کیاگیاتھا۔ ایکسائز اینڈٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے نیا سمارٹ رجسٹریشن کارڈ جمعہ سے جاری کرناشروع کردیا ہے جس میں گاڑی اور اس کے مالک دونوں سے متعلق معلومات ہوں گی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ موجودہ کتابی رجسٹریشن سسٹم کی جگہ پر نیا سمارٹ کارڈ سسٹم متعارف کرایاگیا ، اس منصوبے پر عمل درآمد جنوری میں شروع کیاگیا اور نادرا کے تعاون سے پروان چڑھایاگیا۔بتایاگیاہے کہ نئے قومی شناختی کارڈ کی طرف ’وہیکل رجسٹریشن کارڈ ‘ میں بھی سم موڈیول کی طرح ایک چپ نصب ہے جس میں گاڑی اور مالک سے متعلق تمام ضروری معلومات ہوں گی۔ چپ کے باہر کارڈ پر بھی گاڑی اور مالک کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات درج ہیں۔ حکام کاکہناہے کہ نئے سمارٹ کارڈ کے آنے سے ڈیٹا کی اضافی حفاظت اور غیرمتعلقہ لوگوں کی طرف سے چھیڑچھاڑکی حوصلہ شکنی ہوگی تاہم سیکیورٹی پروٹوکول کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر مشتاق احمد نے کہاہے کہ اس نئے منصوبے کا مقصدعشروں پرانے نظام کو جدید نظام میں بدلناہے جو کہ دنیا بھر میں نافذالعمل ہے ، مئی میں اس منصوبے نے کام شروع کردیناتھا تاہم کچھ تاخیر ہوگئی۔بتایاگیاہے کہ نئے کارڈ کے اجراءکے لیے 1450روپے وصول کیے جائیں گے اور یہی نرخ پرانے اور نئے صارفین دونوں کیلئے ہوں گے ، اگرکارڈ کہیں کھوجاتاہے تو مالک کی اطلاع پر فوری طورپر بلاک کردیاجائے گا۔ ایکسائزڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت ساڑھے آٹھ لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں اور صارفین کی درخواستوں پر پرانی رجسٹریشن بکس کو کارڈ میں تبدیل کردیاجائے گاجبکہ ٹوکن سٹکرز بھی فراہم کرنے کا اعلان کردیاگیاہے۔ نئے نظام سے چوری شدہ گاڑیوں ، جعلی کاغذات کے استعمال کی روک تھام ہوگی اور بالآخرفائدہ گاڑی مالکان اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا ہی ہوگا۔گاڑی فروخت کرنے کی صورت نئے مالک کے نام پر نیا سمارٹ کارڈ جاری ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…