بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہندوستان سے مدد کے طلب گار نہیں،حربیار مری

datetime 10  اکتوبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک) برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطن حربیار مری کا کہنا ہے کہ اگرچہ بلوچ عوام پاکستان کے ساتھ رہنے کے خواہش مند نہیں ہیں لیکن وہ آزادی کے حصول کے لیے ہندوستان سے مدد لینے کے بھی مخالف ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بلوچ رہنما نے بتایا کہ وہ ‘فری بلوچستان موومنٹ’ کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ا±ن کا یا ا±ن کے ساتھیوں کا شدت پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے کوئی تعلق نہیں۔عوامی دباو¿ پر بلوچ ریپبلکن پارٹی (بی آر پی) کے سربراہ نوابزادہ برہمداغ بگٹی کی جانب سے آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبرداری کے فیصلے پر حربیار مری کا کہنا تھا کہ ا±ن کا نہیں خیال کہ بلوچ عوام کی اکثریت پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے۔دوسری جانب حربیار نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا کہ وہ ’آزاد بلوچستان‘ کی مہم شروع کرنے کے لیے ہندوستان گئے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ 25 سال قبل ایک سیاح کی حیثیت سے ہندوستان گئے تھے اور یہ ان کا آخری دورہ تھا۔حربیار مری نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ نئی دہلی میں منعقدہ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر بھگت سنگھ کرانتی سیمینار میں ان کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔حربیار مری کا مزید کہنا تھا کہ ان کا مقصد بلوچستان کے عوام کی حالت زار سے ہندوستانی عوام کو آگاہ کرنا ہے لیکن وہ ہندوستان سے اپنی تحریک کے لیے مدد کے طلب گار نہیں ہیں۔انٹرویو کے دوران ہندوستان کی جانب سے دعوت دیئے جانے کے سوال پر حربیار مری کا کہنا تھا کہ اگر انہیں سرکاری سطح پر ہندوستان آنے کی دعوت دی جائے تو وہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے دنیا کے کسی بھی حصے میں جانے کے لیے تیار ہیں۔یاد رہے کہ حربیار مری نے 2000ءسے لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کررکھی ہے جبکہ زیارت میں قائداعظم ریزیڈنسی حملہ کیس میں حربیار مری پر دیگر 33 ملزمان سمیت فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔حربیار مری ماضی میں بلوچستان کے مسئلے پر وفاقی یا صوبائی حکومت سے بات چیت سے انکار کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…