جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

کالے دھن سے بیرون ملک جائیدادیں بنانےوالوں کےخلاف تحقیقات شروع

datetime 9  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ایف آئی اے نے گذشتہ چند برسوں کے دوران کالے دھن کے ذریعے بیرون ملک جائیدادیں بنانیوالے سیکڑوںصنعتکاروں، سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ایف آئی اے سندھ زون کوقومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے بیرون ملک جائیدادیں بنانے والے صنعتکاروں، سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کی ایک طویل فہرست فراہم کی گئی تھی جس میں کراچی، لاہور، اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں اہم شخصیات شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے کو اس سلسلے میں جامع معلومات فراہم کی گئی ہیںجن میں بیرون ملک جائیدادوں کی خریداری کرنے والے صنعتکار، سیاستدان یا اعلی سرکاری افسر کا نام، خریدی جانے والی جائیداد کا پوسٹل ایڈریس، خریداری کی تاریخ اور جائیدادکی مالیت شامل ہے۔ایف آئی اے حکام کو ذمے داری تفویض کی گئی تھی کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کریں اور یہ پتہ چلائیں کہ متعلقہ افراد اپنی جائز آمدنی سے بیرون ملک جائیداد خریدنے کے اہل تھے یا نہیں اور جائیداد کی خریداری کیلئے منتقل کیا جانے والا خطیر زرمبادلہ قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیا گیا یا اس کیلئے حوالہ اور ہنڈی یا دیگر غیرقانونی ذرائع کا استعمال کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹرایف آئی اے سندھ شاہد حیات کی ہدایت پر اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ایف آئی اے کے سینئر اور انتہائی قابل تفتیشی افسران نے بڑے پیمانے پر تحیقیقات کا آغاز کردیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ تفتیشی افسران کو ابتدائی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور 2 صنعتکاروں کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں جائیداد کی خریداری کیلیے خطیر رقوم حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے جانے کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کرلیے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ 2 صنعتکاروں کے خلاف قانونی کارروائی اگلے مراحل میں داخل ہوگئی ہے جبکہ فہرست کے مطابق دیگر افراد کے بینک اکاو¿نٹس اور دیگر ریکارڈ کے ذریعے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ملک کی سیکڑوں اہم شخصیات پر مشتمل فہرست میں فیڈرل بورڈ ا?ف ریونیو کے متعدد اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، ذرائع نے بتایا کہ عمومی طور پر سیاستدان اور اعلیٰ سرکاری افسران کالے دھن سے خریدی جانے والی جائیدادیں اپنے نام پر خریدنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ صنعتکار اور کاروباری حضرات اس سلسلے میں زیادہ احتیاط کا مظاہرہ نہیں کرتے، اکثر اوقات بزنس مین اپنے قریبی سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کیلیے جائیداد کی خریداری اپنے نام پر کرتے ہیں۔ایف ا?ئی اے ذرائع کے مطابق تفتیشی حکام اس پہلو پر بھی تحقیقات کررہے ہیں کہ صنعتکاروں کی جانب سے خریدی جانے والی جائیدادیں ان کی اپنی ہیں یا ان کا اصل مالک ان کا قریبی سیاستدان یا اعلیٰ سرکاری افسر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…