اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

کالے دھن سے بیرون ملک جائیدادیں بنانےوالوں کےخلاف تحقیقات شروع

datetime 9  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک)ایف آئی اے نے گذشتہ چند برسوں کے دوران کالے دھن کے ذریعے بیرون ملک جائیدادیں بنانیوالے سیکڑوںصنعتکاروں، سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ایف آئی اے سندھ زون کوقومی سلامتی کے اداروں کی جانب سے بیرون ملک جائیدادیں بنانے والے صنعتکاروں، سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کی ایک طویل فہرست فراہم کی گئی تھی جس میں کراچی، لاہور، اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں اہم شخصیات شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے کو اس سلسلے میں جامع معلومات فراہم کی گئی ہیںجن میں بیرون ملک جائیدادوں کی خریداری کرنے والے صنعتکار، سیاستدان یا اعلی سرکاری افسر کا نام، خریدی جانے والی جائیداد کا پوسٹل ایڈریس، خریداری کی تاریخ اور جائیدادکی مالیت شامل ہے۔ایف آئی اے حکام کو ذمے داری تفویض کی گئی تھی کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کریں اور یہ پتہ چلائیں کہ متعلقہ افراد اپنی جائز آمدنی سے بیرون ملک جائیداد خریدنے کے اہل تھے یا نہیں اور جائیداد کی خریداری کیلئے منتقل کیا جانے والا خطیر زرمبادلہ قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیا گیا یا اس کیلئے حوالہ اور ہنڈی یا دیگر غیرقانونی ذرائع کا استعمال کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹرایف آئی اے سندھ شاہد حیات کی ہدایت پر اس معاملے کی حساسیت کے پیش نظر ایف آئی اے کے سینئر اور انتہائی قابل تفتیشی افسران نے بڑے پیمانے پر تحیقیقات کا آغاز کردیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ تفتیشی افسران کو ابتدائی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور 2 صنعتکاروں کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں جائیداد کی خریداری کیلیے خطیر رقوم حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے جانے کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کرلیے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ 2 صنعتکاروں کے خلاف قانونی کارروائی اگلے مراحل میں داخل ہوگئی ہے جبکہ فہرست کے مطابق دیگر افراد کے بینک اکاو¿نٹس اور دیگر ریکارڈ کے ذریعے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ملک کی سیکڑوں اہم شخصیات پر مشتمل فہرست میں فیڈرل بورڈ ا?ف ریونیو کے متعدد اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں، ذرائع نے بتایا کہ عمومی طور پر سیاستدان اور اعلیٰ سرکاری افسران کالے دھن سے خریدی جانے والی جائیدادیں اپنے نام پر خریدنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ صنعتکار اور کاروباری حضرات اس سلسلے میں زیادہ احتیاط کا مظاہرہ نہیں کرتے، اکثر اوقات بزنس مین اپنے قریبی سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکاری افسران کیلیے جائیداد کی خریداری اپنے نام پر کرتے ہیں۔ایف ا?ئی اے ذرائع کے مطابق تفتیشی حکام اس پہلو پر بھی تحقیقات کررہے ہیں کہ صنعتکاروں کی جانب سے خریدی جانے والی جائیدادیں ان کی اپنی ہیں یا ان کا اصل مالک ان کا قریبی سیاستدان یا اعلیٰ سرکاری افسر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…