جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

این اے 122 ،جماعتی سیاست برادری ازم پر غالب ،گھروں کے اندر بھی نون اور جنون ،سپیشل رپورٹ

datetime 8  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 لاہورکے ضمنی انتخابات میں جماعتی سیاست برادری ازم پر غالب آ گئی ہے اورنہ صرف برادریاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر رہ گئی ہیں بلکہ گھروںکے اندر بھی نون اور جنون کی تقسیم واضح ہوگئی ہے، گھریلو خواتین ووٹنگ کے حوالے سے زیادہ جذباتی نظر آ رہی ہیں اور وہ اپنے ووٹ کو اپنے شوہروں اور گھرانے کی رائے سے مشروط کرتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ ورکنگ ویمن اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال رہی ہیں۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق حلقہ کی مضبوط ارائیں برادری سمیت دیگر برادریوں کے اندر بھی مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی واضح تقسیم ہے ، گھروں کے اندر بھی ن اور جنون کی تقسیم واضح نظر آ رہی ہے ، بچے بھی سیاسی عمل سے باخبر ہیں جو بڑوں سے یہ پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ آپ شیر کے ساتھ ہیں یا بلے کے ساتھ اور جواب وہ اپنی وابستگی کے اظہار کے ساتھ بچوں کو اس حوالے سے مطمئن کرتے نظر آ رہے ہیں۔ایک سروے کے مطابق حلقے کے سنجیدہ ووٹرز کی اکثریت ایاز صادق اور نوجوان علیم خان کو ترجیح دیتے نظر آ رہی ہے۔ گھریلو خواتین ووٹنگ کے حوالے سے زیادہ جذباتی نظر آ رہی ہیں البتہ وہ اپنے ووٹ کو اپنے شوہروں اور گھرانے کی رائے سے مشروط کرتی دکھائی دیتی ہیں جبکہ ورکنگ ویمن اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال رہی ہیں۔ این اے 122 کا حلقہ مکمل شہری حلقہ ہے ، دربار حضرت میاں میر آباد ، گریفن گراﺅنڈ ، مغلپورہ ، ریلوے سٹیشن، مزنگ روڈ ، ججیل روڈ ، شادمان، لارنس روڈ، اچھرہ اور سمن ا?باد کے ساتھ اس حلقہ کی حدیں ملتان روڈ تک جاتی ہیں۔اس حلقہ میں زیادہ ووٹ ارائیں براداری کا ہے البتہ ارائیں برادری میں بھی اس مرتبہ تقسیم نظر آتی ہے ، یہ حلقہ 1970 اور 1973 میں پیپلزپارٹی کا گڑھ تھا لیکن ضیاالحق کے مارشل لاءکے بعد یہ حلقہ مسلم لیگ ن کی سیاست کا گڑھ بنا اور 2013 تک یہاں سے جیتنے والوں کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہی رہاہے۔ این اے 122 کے حلقہ میں کل ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 47 ہزار 762 ہے۔مرد ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 90 ہزار 328 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 54 ہزار 434 ہے۔ این اے 122 میں 3 لاکھ 47 ہزار 762 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔ اضافی بیلٹ پیپرز کی تعداد 3 ہزار 477 ہے۔ این اے 122میں کل پولنگ اسٹیشنز 284 ہیں۔ خواتین اور مردوں کے لئے 134، 134پولنگ اسٹیشنز ہیں۔ مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 16 ہے۔ کل پولنگ بوتھز کی تعداد 673 ہے۔ مردوں کے پولنگ بوتھز کی تعداد 367 ہے۔ خواتین پولنگ بوتھز کی تعداد 306 ہے۔ این اے 122 میں کل پریزائیڈنگ افسران کی تعداد 284 ہے۔اسٹنٹ پریزائیڈانگ افسران کی تعداد 673 ہے، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افیسر کا کہنا ہے کہ کسی پریزائیڈنگ افیسر نے غفلت برتی تو فوجی افسر کارروائی کر سکتے ہیں۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضمنی الیکشن کو صاف اور شفاف بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…