بدھ‬‮ ، 22 جولائی‬‮ 2026 

کارگل جنگ ،دلیپ کمارنے نوازشریف سے بات کی تھی ،خورشید قصوری

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |

نئی دہلی(نیوزڈیسک) سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران بحران کو کم کرنے کے لیے ہندوستانی فلم اداکار اور پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز کے حامل دلیپ کمار نے وزیراعظم نواز شریف سے بات کی تھی.این ڈی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران قصوری نے وزیراعظم نواز شریف کے ایک ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ جولائی 1999 میں نواز شریف اور اُس وقت کے ہندوستانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے مابین ٹیلیفونک گفتگو کے دوران واجپائی نے فون دلیپ کمار کو پکڑا دیا تھا.قصوری نے بتایا،”وزیراعطم نواز شریف کو یقین نہیں آیا تھا کہ ایک ہیرو اس وقت فون پر اُن سے مخاطب ہیں”، جس پر دلیپ کمار نے انھیں یقین دلایا کہ فون پر وہ ہی بات کر رہے ہیں اور وہ کارگل کے محاذ پر کشیدگی کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں.دلیپ کمار نے وزیراعظم نواز شریف پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اس بحران کو ختم کرنے میں مدد کریں کیوں کہ یہ بات دونوں جانب کے عوام کے بہترین مفاد میں ہے.ہیڈلائن ٹوڈے چینل کو دیئے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں قصوری نے ایک اعلیٰ سطحی امریکی ٹیم کے حوالے سے بتایا جس نے ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان کی جانب سے فضائی حملوں پر غور کے حوالے سے پاکستانی ردعمل سے متعلق پوچھا.قصوری نے بتایا کہ امریکی ٹیم نے ان سے اس حوالے سے بات چیت کی کہ اگر ہندوستان فضائی حملے کرتا تو پاکستانی فوج کا کیا ردعمل ہوتا، سابق وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ اُن سے یہ سوال پوچھنے سے قبل امریکی ٹیم نے “ہندوستان میں کسی اعلیٰ سطح کے عہدیدار” سے بات کی ہوگی.واضح رہے کہ خورشید محمود قصوری نے انڈیا ٹوڈے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد سینیٹر جان مک کین کی قیادت میں ایک امریکی وفد سے ان کی ملاقات ہوئی تھی جس میں وفد نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انڈیا مرید کے میں جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے خلاف فضائی کارروائی کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وفد سے ان کی ملاقات لاہور میں ہوئی تھی جس میں رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور پاکستان اور افغانستان کے خصوصی امریکی سفیر رچرڈ بالبروک بھی شامل تھے۔سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے مک کین کو کہا کہ اگر پاکستانی حدود میں ایسی کوئی کارروائی ہوئی تو پاکستانی فوج اس کا جواب دے گی۔قصوری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی دونوں ممالک کے درمیان دوستی، امن اور سیکیورٹی کے معاہدوں کی حامی تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…