اسلام آباد(نیوزڈیسک)اضافی بیلٹ پیپرز،چیف جسٹس کے سوال پر تحریک انصاف کے وکیل کے ہوش اڑ گئے،مبینہ دھاندلی کے انکوائری کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک نے نے تحریک انصاف سے پوچھا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن )کو کیسے دھاندلی سے منسلک کررہے ہیں . پہلے بھی پوچھا دوبارہ پوچھ رہاہوں کیا آپ نے تحریری جواب میں مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایاجبکہ پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو پارٹی اقتدارمیں ہوتی ہے اسکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اقتدارمیں ہی رہے، (ن )لیگ کی پنجاب میں پہلے بھی حکومت تھی اب بھی ہے۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی مبینہ انتخابی دھاندلی کے کمیشن کا اجلاس ہوا چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل سے سوال کیا کہ وہ دوبارہ پوچھ رہے ہیں ، کیا آپ نے تحریری جواب میں مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے. آپ بتائیں کہ آپ مسلم لیگ (ن )کو دھاندلی سے کیسے منسلک کر رہے ہیں اس پر دلائل میں حفیظ پیرزادہ نے موقف اپنایا کہ جتنے ووٹ مسلم لیگ ن کے 2013 ءمیں ہیں یہ 2008 ءکے انتخابات سے زیادہ ہیں ، مسلم لیگ (ن )نے پنجاب سے1کروڑ 10 لاکھ وو ٹ . باقی3 صوبوں سے 20 لاکھ ووٹ بھی حاصل نہیں کیے .جو پارٹی اقتدارمیں ہوتی ہے ا سکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اقتدارمیں ہی رہے،مسلم لیگ (ن) کی پنجاب میں پہلے بھی حکومت تھی اب بھی ہے پنجاب میں 4 سیکرٹریز کو تبدیل نہیں کیا گیا،ایک سیکرٹری کاتعلق محکمہ تعلیم سے تھاجسے تبدیل نہیں کیاگیا، انتخابی عملہ تعلیم کے محکمے سے آتا ہے ¾ریٹرننگ افسران کو ہر چیز کا مکمل اختیاردیا گیا پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات میں نشستوں کے حصول کیلئے پنجاب کو ٹارگٹ بنایا گیا۔ 2008 سے 2013 تک پنجاب بیوروکریسی ن لیگ سے متاثر تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے تمام دلائل کا مرکز مسلم لیگ ن ہے، ہمیں تو پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا میں الیکشن چرانے کے حوالے سے بھی درخواست دی تھی۔ جسٹس اعجاز فضل نے ریمارکس دیے کہ خیبر پختونخوا میں اے این پی کو بھی غیر یقینی شکست ہوئی۔عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ آر اوز کو بیلٹ پیپرز کیلئے کھلی چھٹی دی گئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صرف پنجاب میں آر اوز نے اضافی بیلٹ پیپرز اپنے پاس نہیں رکھے، بلکہ پورے ملک میں آر اوز کے پاس اضافی بیلٹ پیپرز تھے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر کے حلقے میں بے تحاشہ اضافی بیلٹ پیپرز بھجوائے گئے اور بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کیلئے لاہور میں اضافی نفری بھجوائی گئی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات کے دوران وہ وفاقی وزیر نہیں بلکہ امیدوار تھے اور اضافی نفری پرنٹنگ کیلئے نہیں بائنڈنگ کیلئے بھجوائی گئی تھی
چیف جسٹس کے صرف ایک سوال پر تحریک انصاف کے وکیل کے ہوش اڑ گئے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)
-
دنیا کے طاقتور اور کمزور پاسپورٹس کی فہرست جاری، سنگاپور کا پہلا نمبر، پاکستان کی حیرت انگیز پوزیشن
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
190 ملین پاؤنڈ کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی سزا معطلی درخواست پر فیصلہ سنادیا
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
چودھری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں پر بول پڑے
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
راولپنڈی،ہوٹل میں متعدد بار زیادتی کے بعد خاتون حاملہ، پیدا ہونے والی بچی بھی چھین لی گئی
-
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
-
راولپنڈی،خاتون سے زیادتی کرنے اور نومولود بچی کو اغوا کرنے والا ہوٹل منیجر گرفتار، بچی بازیاب
-
سونے کے بعد چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں بڑی کمی
-
1500 روپے مالیت کا پرائز بانڈ رکھنے والے افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
اسلام آباد سے اغوا نوجوان کی تشدد زدہ لاش صوابی سے برآمد
-
پرائیویٹ سکولوں کی رجسٹریشن اور تجدید کیلئے نئی شرائط عائد



















































