منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کا دورہ کرنیوالے روہنگیا مسلمانوں کے وفد کے ہولناک انکشافات

datetime 16  جون‬‮  2015 |
A woman of a mosque fire victim cries during the burial of her son on the outskirts of Yangon, Myanmar, Tuesday, April 2, 2013. A fire engulfed a mosque housing Muslim schoolchildren in Myanmar's largest city on Tuesday, killing at least 13. Police, anxious over sectarian violence that has shaken the nation, blamed an electrical short circuit for the blaze and said they were investigating mosque authorities for possible negligence. (AP Photo/Gemunu Amarasinghe)

اسلام آباد (نیوزڈیسک)میانمار کے مسلمان اکثریتی صوبے اراکان میں جون 2013ءکے خونی فسادات سے تاحال گزشتہ تین برسوں میں گیارہ ہزار دوسو سات (11,207)روہنگیامسلمانوں کو شہید کیا گیا، چھ ہزار تین سو سترہ (6,317) سمندر میں مچھلیوں کی خواراک بنے، ایک ہزارپانچ سو چودہ (1,514)وبائی امراض سے جاں بحق ہوئے، ایک لاکھ نوے ہزار (190,000)اپنے ہی وطن میں آئی ڈی پیز بننے پر مجبور ہوئے،روہنگیا کے مظلوم مسلمانوںکی ایک سو ترانوے (193) اجتماعی قبریں تھائی لینڈ اور ملائشیا کے ساحلوں پر دریافت ہوئیں جبکہ آٹھ ہزار سے زائد ابھی بھی کھلے سمندر میں پناہ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ان دل دہلادینے والے اعدادو شمار کا انکشاف سعودی عرب میں قائم روہنگیا مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم گلوبل روہنگیا سینٹر (جی آر سی)کے وفد نے پاکستان میں چارہ روزہ دورے کے اختتام پر صحافیوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کیا، وفد کی قیادت مکہ مکرمہ میں مقیم روہنگیا مسلمان راہنماءشیخ عبداللہ معروف نے اپنے ترجمان نعیم اللہ کے ساتھ کی۔روہنگیا مسلمانوں کے وفد نے پاکستان میں قیام کے دوران پارلیمنٹ کا دورہ کیا جہاں انکا خیرمقدم کرنے کیلئے ڈیسک بجائے گئے اورچیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے معمول کی کاروائی رکواکر اظہارِ یکجہتی کیا گیا، پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر مشترکہ پریس کانفرنس میںصدرچوہدری شجاعت اورسیکرٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین سید نے برمی مسلمانوں کو عملی تعاون کی یقین دہانی کروائی جبکہ جماعتِ اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کے زیرمنعقدہ برمی مسلمانوں سے اظہارِیکجہتی کیلئے احتجاجی ریلی میں خصوصی طورپر شرکت کی۔شیخ عبداللہ معروف کا گفتگو میں کہنا تھاکہ روہنگیا مسلمان اراکان کے قدیمی و اصلی باشندے ہیں، اسلام 14سوسال پہلے عرب تاجروں اور جہاز رانوں نے متعارف کروایا، آج میانمار کی حکومت نے مسلمانوں کے اراکان صوبے سے بدترین نسل کشی کرکے صوبے کو راکھین قوم کے حوالے کرکے راکھین کا نام دے دیا ہے، اراکان میں مسلمانوں کی خودمختار حکومت 1430ءسے 1784ءتک رہی، انگریز راج کے تحت برما کی پہلی مردم شماری 1872ءکے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…