منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قومی سلامتی کونسل کو ملک کے آئین میں مستقل جگہ دینے کی ضرورت ہے ،پرویز مشرف

datetime 16  جون‬‮  2015 |

کراچی(نیوزڈیسک)سابق صدرِ پاکستان جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کونسل کو ملک کے آئین میں مستقل جگہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بحران کے موقع پر اُس سے ایک باقاعدہ اور مناسب ادارے کی حیثیت سے کام لیا جاسکے۔یہ بات انہوں نے امریکی ایوارڈ یافتہ میگزین ساو ¿تھ ایشیا کے جون 2015 ءکے شمارے میں شائع کردہ ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان میں فوج کو اقتدار سنبھالنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں، جنرل (ر) مشرف نے کہا ”اس کے لیے ضروری ہے کہ سویلین حکومتیں عوام کی فلاح اور ریاست کی ترقی کو یقینی بنائیں اور بد انتظامی کے خلاف آئینی جانچ پڑتال کے طریقے نافذ ہوں۔ ایسے حالات میں فوج اپنے اصل کام یعنی خارجی و داخلی خطرات سے تحفّظ کی فراہمی کی طرف توجہ مرکوز کر سکتی ہے۔“ سابق صدر نے کہا کہ این ایس سی کے مسلسل فعال رہنے اور قومی مسائل پر بحث کرنے کے لیے باقاعدہ بنیادوں پر ملنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ، لیکن بحران کے حالات میں وہ مزید مفید کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ این ایس سی کے علاوہ فوج کو اپنا کردار آئین کے عین مطابق ادا کرنا چاہیے اور سیکشن 245 کے تحت جب اُنھیں سویلین حکومت کی مدد کے لیے طلب کیا جائے تو وہ آئین کے مطابق عمل کریں۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ریاستی معاملات کے ضمن میں فقط سویلین حکومت پر اعتماد کیا جانا چاہیے، پرویز مشرف نے کہا کہ ایسا اُس صورت میں کیا جاسکتا ہے جب سویلین حکومت اپنا کام پورا کرے۔ اُن کی رائے میں پاکستانی عوام نے ملک کی تاریخ میں بدقسمتی سے کسی بھی سویلین حکومت کو اخلاص کے ساتھ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا، اور اس وجہ سے اُن کا اعتماد متاثر ہوا۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا سیاستدان ہمیشہ بحران کے وقت فوج کی طرف رجوع کرتے ہیں، پرویز مشرف نے کہا کہ ایسا ہمیشہ نہیں بلکہ کبھی کبھی ہوتا ہے۔ اصل میں بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ فوج کئی معاملات سے بہتر انداز میں نمٹ سکتی ہے۔اُن کے مطابق یہ رجحان 90 ءکی دہائی میں زیادہ رائج تھا۔ اُن کے خیال میں ماضی میں لوگوں کی بڑی تعداد نے متعدد مُلکی بحرانوں بشمول سیاسی بحرانوں میں فوج کی طرف رجوع کیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…