اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران کے مبینہ ایٹمی ہتھیار پروگرام سے متعلق امریکا اور اسرائیل کے الزامات پر اہم وضاحت جاری کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ادارے کے معائنہ کاروں کو ایران میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کے کسی منظم یا باقاعدہ پروگرام کے شواہد نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال ایسے کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے جو یہ ظاہر کریں کہ تہران ایٹم بم بنانے کے لیے عملی ڈھانچہ قائم کر چکا ہے۔تاہم رافیل گروسی نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کی شرح 60 فیصد تک پہنچا دی ہے، جو عام شہری مقاصد کے لیے درکار سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق اس درجے تک افزودگی عموماً وہ ممالک کرتے ہیں جو جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران کے پاس فی الحال ایٹمی بم موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، البتہ اس نے اتنی مقدار میں افزودہ مواد ذخیرہ کر لیا ہے جو نظریاتی طور پر دس سے زائد جوہری وارہیڈز تیار کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔ یہی پہلو عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔



















































