جہانگیر ترین اکیلے نہیں، کئی اور لوگ بھی شامل ہیں  انصار عباسی کے تہلکہ خیز انکشافات

  ہفتہ‬‮ 10 اپریل‬‮ 2021  |  9:58

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جہانگیر ترین اکیلے نہیں ہیں، کئی اور لوگ بھی ہیں۔ کم از کم 14؍ شوگر ملز کو ایف آئی اے لاہور کی جانب سے ’’حتمی نوٹس‘‘ بھیجا گیا ہے اور ساتھ ہی ’’شوگر مافیا‘‘ کے مختلف کرداروں کیخلاف کئی مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ چینی کے کاروبار میں جہانگیر ترین بڑے کھلاڑی ہیں لیکن اس کے باوجود شہباز شریف کی فیملی ایف آئی اےکی ’’اہداف کی فہرست‘‘ میں سرفہرست ہے، حالانکہ اس سے پہلے درجہ بندی میں جہانگیر ترین کا نام سب سے پہلے تھا۔روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی


خبر کے مطابق ایف آئی اے نے اپنی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ شہباز شریف اور ان کے بیٹوں نے 2008ء سے 2018ء تک چھپا کر’’بیرونی ذرائع‘‘ سے جعلی اکائونٹس کھول کر 25؍ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے۔ یہ اکائونٹس کم اجرت پر رکھے گئے آر ایس ایم ایل کے ملازمین (چپڑاسی اور کلرک) کے نام پر کھولے گئے۔جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو ملز، جو پبلک لمٹیڈ لسٹڈ کمپنی ہے، کے معاملے میں جہانگیر ترین پر الزام ہے کہ انہوں نے بےایمانی سے جے کے فارمز لمیٹڈ (سی ای او علی ترین) کے اثاثے 4.35؍ ارب روپے میں خریدے اور اس طرح انہوں نے پبلک شیئر ہولڈرز کو دھوکا دیا اور 20؍ نومبر 2013ء کے معاہدہ فروختگی کے ذریعے اپنے بیٹے کو فائدہ پہنچایا۔خسرو بختیار کے خاندان کی آر وائی کے شوگر مل کو بھی حتمی نوٹسبھیجا گیا ہے جو سٹہ مافیا کی تحقیقات سے متعلق ہے۔ ترین کی طرح، آر وائی کے شوگر مل پر الزام ہے اس نے بے ایمانی سے سٹہ مافیا کے واٹس ایپ گروپ کے خفیہ نیٹ ورک کے ساتھ مل کر چینی کی قیمتیں بڑھائیں۔ایسے ہی نوٹسز دیگر شوگر ملوں کو بھی بھیجے گئے ہیں جن میں ٹو اسٹار شوگر ملز، کشمیرشوگر ملز، حسین شوگر ملزم، چنار شوگر ملز، حمزہ شوگر ملز، جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز، تاندلیاں والا شوگر ملز، العربیہ شوگر ملز، اتحاد شوگر ملز، المز شوگر ملز، مدینہ شوگر ملز اور رمضان شوگر ملز شامل ہیں۔ ان تمام شوگر ملوں کو ایک جیسے ہی نوٹس بھیجے گئے ہیں اور ان سے ایک جیسا ریکارڈ طلب کیاگیا ہے چاہے یہ شوگر ملز جہانگیر ترین کی ہوں، شہباز شریف، خسرو بختیار فیملی کی یا پھر کسی اور کی۔ان نوٹسز کے مطابق، ان شوگر ملز کی انتظامیہ پر الزام ہے کہ یہ شوگر ملز بروکرز اور فرنٹ مین کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے اب شوگر سٹہ مافیا میں تبدیل ہوگئی ہیں اور یہ مافیا بے ایمانی سے چینیکی قیمتوں میں اضافہ کر رہا ہے اور اس مقصد کیلئے فراڈ واٹس ایپ کے خفیہ گروپس کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ان پر الزام ہے کہ یہ مافیا صارفین کے ساتھ دھوکا کر رہے ہیں، چینی کی قیمتیں غیر منصفانہ انداز سے بڑھا رہا ہے اور اس جرم سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خفیہ اور جعلی بینک اکائونٹس میںاثاثوں کے ذریعے چھپایا جا رہا ہے۔ ان نوٹسز میں لکھا ہے کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ جعلی اور بوگس کھاتوں یا پھر کچے کھاتوں کے ذریعے جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی چھپائی جا رہی ہے۔شواہد سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شوگر ملز سٹہ مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ بنائے ہوئے ہے۔ ان شوگر ملز میںاکائونٹس سنبھالنے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چینی کے اسٹاک کا تمام ریکارڈ پیش کریں اور بتائیں کہ سٹہ کھلاڑیوں کو اور ان کے ذریعے یکم نومبر 2020ء سے اب تک کتنی چینی فروخت کی گئی ہے جیسا کہ کمپنی کے اصل لیجرز / وائوچرز میں بتایا گیا ہے۔ یکم نومبر 2020ء سے فروخت کی گئی چینی کاوہی ریکارڈ مانگا گیا ہے جو ایف بی آر بھی طلب کر چکا ہے۔شوگر ملوں کے ملازمین، ان ملز کے رائیڈرز یا ملازمین کے نام پر کھولے گئے اکائونٹس، شوگر بروکرز کے رائیڈرز کے ریکارڈز کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ شوگر ملوں کے کارپوریٹ اکائونٹس کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ ان ملز سےکہا گیا ہے کہ وہ یکم نومبر 2020ء سے ان ورڈ اور آئوٹ ورڈ لین دین (ایف ٹی ٹی) کا بھی حساب دیں جو ان شوگر ملز کیلئے یا ان کی طرف سے کیا گیا ہے یا پھر ان کے ڈائریکٹرز، سی ای او، بروکرز، فرنٹ مین کے ذریعے کیا گیا ہے، چاہے یہ بینکاری کے چینلز کے ذریعے کیا گیا ہو یا منی ایکسچینجکمپنیوں یا حوالہ کے ذریعے۔ شوگر کمیشن کی انکوائری کے بعد، ایف آئی اے لاہور نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے بادی النظر میں مالی جرائم اور منی لانڈرنگ کا پتہ چل گیا ہے۔مندرجہ ذیل ایف آئی آرز درج کرتے ہوئے باضابطہ انوسٹی گیشن شروع کی جا چکی ہے۔ ایف آئی آر 39/2020(14 نومبر 2020) اے سی سی لاہور (رمضان شوگر ملز لمیٹڈ / آر ایس ایم ایل) ایف آئی اے نے شہباز شریف اور ان کے بیٹوں پر 25؍ ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا ہے جس کیلئے انہوں نے کم اجرت والے ملازمین کے نام پر اکائونٹس کھولے۔ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ 90؍ فیصد رقم نقدکی صورت میں انتہائی قابل بھروسہ دو لڑکوں کی مدد سے نکالی گئی۔ شبہ ہے کہ اس رقم کا بیشتر حصہ ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے برطانیہ اور متحدہ عرب امارات بھجوا دیا گیا ہے۔کوٹ لکھپت جیل میں تحقیقات کے دوران ایف آئی اے کے ذریعے نے بتایا کہ شہباز شریف کا جواب مبہم تھا جبکہ حمزہ شہباز(آر ایس ایم ایل کے چیف ایگزیکٹو افسر) نے سارا الزام سلیمان شہباز پر ڈال دیا۔ وہ اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں اور وہ اس وقت برطانیہ میں ہیں۔ ایف آئی آر 51/2020 (14؍ نومبر 2020) سی سی سی لاہور (جے ڈبلیو ڈی جے کے فارمنگ لمیٹڈ) ایف آئی اے کے مطابق جے ڈی ڈبلیوملز نے اپنے چیف ایگزیکٹو افسر جہانگیر ترین کے ذریعے بے ایمانی سے جے کے فارمز کے اثاثہ جات 4.35؍ ارب روپے میں خریدے اور شیئر ہولڈرز کو دھوکا دیا اور اپنے بیٹے کو فائدہ پہنچایا۔ایف آئی اے کا الزام ہے کہ معاہدہ فروختگی پر عمل کیا گیا لیکن آزاد ایویلیوٹرز کے ذریعے منصفانہ رقم کا تعین نہیں کیا اوراے جی ایم یا سالانہ آڈٹ ایف ایس میں درست انداز سے انکشاف بھی نہیں کیا گیا۔یونیکورن سرویئرز اور اسد علیم مرزا اے ایف فرگوسن اینڈ کمپنی آڈیٹرز کی بوگس رپورٹس (29 جنوری 2014) پیش کی گئیں، کہا جاتا ہے کہ جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کو انکوائری کے دوران 6 مرتبہ بلایا گیا لیکنوہ پیش نہیں ہوئے۔ایف آئی ار 17/2021 سی سی سی لاہور (جے ڈی ڈبلیو فاروقی پلپ ملز) اس مقدمہ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے 2011 اور 2012ء کے بعد بے ایمانی کے ذریعے جے ڈبلیو ڈی کے اکائونٹس سے 3.14؍ ارب روپے (2013 تا 2016) ایسوسی ایٹڈ کمپنی فاروقی پلپ ملز (اے کےٹی اینڈ ولید فاروقی) میں سرمایہ کاری کی؛ یہ وہ وقت تھا جب کمپنی کے آپریشنز مختلف ناکامیوں کی وجہ سے بند کر دیے گئے تھے اور آپریشنز دوبارہ شروع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لئے کیا گیا تاکہ جے ڈی ڈبلیو کے فنڈز میں خرد برد کرکے اس کی منی لانڈرنگ کی جائےجو 2016ء میں 7؍ ملین ڈالرز برطانیہ بھجوا کر کی گئی اور اس سے بیرون ممالک جائیداد خریدی گئی۔ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین اور علی ترین کے 36؍ پرسنل اکائونٹس میں موجود 41؍ ملین روپے کی رقم منجمد کی جا چکی ہے اور ان دونوں سے پانچ پانچ سوالات کئے گئے ہیں جو انہیں نوٹسمیں ارسال کیے گئے ہیں۔ایف آئی اے 18/2021 سی سی سی لاہور (جے ڈی ڈبلیو منی لانڈرنگ) ایک اور ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے جے ڈی ڈبلیو کے اکائونٹس سے 2.2؍ ارب روپے کی خرد برد کی اور اس مقصد کیلئے انہوں نے اپنے قابل بھروسہ شخص امیر وارث کا سہارا لیا اورخاندان کے اکائونٹس میں رقم منتقل کی۔ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ جہانگیر ترین اور علی ترین دونوں سٹہ کھلاڑی ماجد ملک کے ذریعے جعلی اکائونٹ (5.8؍ ارب روپے) چلاتے تھے اور منی لانڈرنگ کرتے تھے اور پھر رقم ذاتی بزنس جیسا کہ اے ٹی ایف مینگو فارمز اور جے کے ڈیریز میں کاروباری ادائیگیاں دکھا کرسرمایہ لگاتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ جے ڈی ڈبلیو کے چیف آپریٹنگ افسر رانا نسیم نے سالانہ کمپنی کے اکائونٹس سے تنخواہ اور مراعات کی مد میں 600؍ ملین روپے کی منی لانڈرنگ اور خرد برد کی جبکہ حقیقت یہ تھی کہ جے ڈی ڈبلیو پانچ سال سے ریکارڈ میں خسارہ دکھا رہی ہے (2.27؍ ارب روپے کامنفی کنٹری بیوشن) حالانکہ انہیں ماہانہ دس لاکھ روپے تنخواہ کی اجازت نہیں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جہانگیر ترین علی ترین اور رانا نسیم کے اکائونٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ایف آئی آر نمبر 19 تا 28/2021 (22 مارچ 2021) سی سی سی لاہور شوگر سٹہ مافیا۔ کہا جاتا ہے کہ ایف آئی اے لاہور اور پنجابزون نے آئی بی اور اسپیشل برانچ کی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر 21 اور 22 مارچ کی رات کو چھاپے مارے اور 34؍ سمارٹ فونز، 6؍ لیپ ٹاپس اور ہزاروں لیجرز (کچہ کھاتا) ضبط کرلیے۔ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ 40؍ سٹہ کھلاڑی 16؍ واٹس ایپ گروپس کے ذریعے چینی کی قیمتیں بڑھارہے ہیں اور پنجاب کی 40؍ شوگر ملیں ان کے ساتھ مکمل طور پر ملی ہوئی ہیں۔40؍ سٹہ کھلاڑیوں کیخلاف 10؍ ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں اور شواہد کا فارنسک جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی کے 20؍ سٹہ کھلاڑیوں کے نام بھی ایف آئی اے کراچی کو بھیجے گئے ہیں اور کراچی میں بھی ایف آئیاے پنجاب جیسی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40؍ سٹہ کھلاڑیوں کے 464؍ ذاتی اکائونٹس، جن میں 106؍ ارب روپے کے لین دین کا پتہ چلا ہے، کو منجمد کر دیا گیا ہے۔392؍ بے نامی، جعلی اور تھرڈ پارٹی اکائونٹس میں 667؍ ارب روپے کا ٹرن اوور تھا جس میں شوگر سٹہ ٹرانزیکشنزکو بینکوں کو جائزے کیلئے بھیجا گیا ہے اور ضرورت پڑنے پر منجمد کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ ان اکائونٹس میں 10؍ کھاتے گھی ملز کے بھی ہیں جنہیں شوگر سٹہ مافیا کی آمدنی کو لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔یہ بات سامنے آئی ہے کہ سٹہ کھلاڑیوں اور ملز انتظامیہ کے اثاثوں کی تحقیقات بھی شروعکی گئی ہے اور بینکوں، ایف بی آر، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، ہائوسنگ سوسائٹیز اور ڈپٹی کمشنرز سے ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ جعلی اور بے نامی اکائونٹس کا منی ٹریل اور شوگر ملوں کے کیش بوائز (نقد رقم لانے لیجانے والوں) کے اکائونٹس کی تفصیلات جمع کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

درمیان

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎

یہ ایک ڈاکٹر کی کہانی ہے‘ ڈاکٹر صاحب اس وقت آسٹریلیا میں ہیں اور یہ وہاں ایسی شان دار زندگی گزار رہے ہیں جس کا ان کے کسی کلاس فیلو نے خواب تک نہیں دیکھا تھا‘ ہم سب لوگ زندگی میں ٹاپ کرنا چاہتے ہیں‘ ہم ہر کلاس میں اول آنا چاہتے ہیں‘ ہم بازار کا مہنگا ترین لباس خریدنا ....مزید پڑھئے‎