اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

دھرنا 126دن کا ریکارڈ توڑ کر 127 دن ہونا چاہیے رانا ثنا اللہ نے لانگ مارچ سے متعلق بڑا اعلان کردیا

datetime 21  مارچ‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ عید الفطر کے بعد عید الفطر کے بعد ترجمانوں اور گالی گلوچ بریگیڈ کی اٹھکیلیاں ختم ہونے والی ہیں، میری ذاتی لی جائے تو دھرنا ایک سو چھبیس دن کا ریکارڈ توڑ کر ایک سو ستائیس دن ہونا چاہیے ،جس نے آصف زرداری کی خبر باہر دی اس نے پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کو نقصان

پہنچایا،انشااللہ لانگ مارچ ضرور ہوگا کیونکہ ان کا علاج ہی لانگ مارچ ہے ان کے سر پر بیٹھنا ہوگا۔ جاتی امراء کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک ضرور کامیاب ہوگی، اس تحریک کو دس پارٹیاں چلائیں نو چلائیں یا تین چلائیںیہ کامیاب ہوگی، یہ حق و سچ کی لڑائی ہے اس لئے اس کی کامیابی اٹل ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ سب کچھ پیپلزپارٹی کیلئے بہتر نہیں ہوا اس کی تحقیقات ہونی چاہیے ،جو ٹیم سینیٹر زکو ووٹنگ کیلئے گائیڈ کررہی تھی نام پر بھی مہر لگا دیں اس پر بھی تحقیقات ہونی چاہیے ،یہ غلطی ہے یا سازش ہے پیپلزپارٹی تحقیقات کروائے ،یہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کے لئے بہتر ہوگا، میری ذاتی رائے ہے یہ غلطی سے بڑی چیز ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر سوال کے جواب میں رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ نہ میں عمران خان کو کچھ کہنا چاہتا ہوں نہ ہی کرونا کو ۔ انہوں نے کہا کہ عید الفطر کے بعد ترجمانوں اور گالی گلوچ بریگیڈ کی اٹھکیلیاںختم ہونے والی ہیں،

اگر میری ذاتی لی جائے تو دھرنا ایک سو چھبیس دن کا ریکارڈ توڑ کر ایک سو ستائیس دن ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ انشااللہ لانگ مارچ ضرور ہوگا ان کا علاج ہی لانگ مارچ ہے ان کے سر پر بیٹھنا ہوگا، لانگ مارچ استعفوں کے ساتھ ہوتاہے یا اس کے بغیر پی ڈی ایم اس کا فیصلہ

کرے گی، لانگ مارچ عیدکے بعد تک ملتوی ہوا اس کو ختم نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کی ملاقات کے حوالے سے کہا کہ ان کا کہنا تھاکہ وہ (ن) لیگ اور مریم نواز سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، پچھلے دنوں مولانا فضل الرحمن کی آصف زرداری اور نوازشریف سے بات ہوئی جس میں سے وہ درمیانی راستہ نکالنا چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…