بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

سکیورٹی ایجنسیوں نے وزیر اعظم کو کوئٹہ جانے سے روک دیا

datetime 7  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد،کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)سینئر صحافی مبشر لقمان نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کوئٹہ نہیں جا رہے۔تفصیلات کے مطابق مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ میں نے پتہ کیا ہے کہ ابھی تک وزیراعظم عمران ہزارہ برادری کے

پاس کوئٹہ کیوں نہیں گئے۔سب سے بڑی بات ہے کہ وہاں پر بہت زیادہ خطرہ ہے۔داعش کی جانب سے خطرہ ہے۔ہم اس کو ہلکا نہیں لے سکتے۔مبشر لقمان نے مزید کہا کہ وہاں پر کچھ اس طرح کے سکیورٹی خدشات ہیں کہ ایجنسیاں وزیراعظم عمران خان کو نہیں جانے دے رہیں۔ایک بات ضرور سمجھ لینی چاہئے کہ وزیراعظم ڈکٹیٹر نہیں ہے،وہ لوگوں کے درمیان میں سے اٹھ کر آئے ہیں۔وزیراعظم کو اس چیز کا احساس ہے کہ انہیں سوشل میڈیا اور میڈیا پر کس قدر تنقید کا سامنا ہے۔ہر سمجھدار شخص اس واقعے پر دکھی ہے۔اگر سکیورٹی ایجنسیاں وزیراعظم عمران خان کو وہاں جانے کے لیے کلیئر کر دیں تو وہ ضرور جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں افغانستان کا براہ راست ہاتھ ہے۔ زلفی بخاری نے جو بات کی وہ انتہائی فضول ہے۔دوسری جانب ہزارہ برادری کی جانب سے پانچویں روز بھی میتوں کے ہمراہ دھرنا جاری رہا ۔جمعرات کے روز بلوچستان کی خون جما دینے والی سردی کے باوجود مچھ کی

کوئلہ فیلڈ میں کام کرنے والے 10 کان کنوں کے قتل کے خلاف لواحقین اور ہزارہ برادری کا کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر اپنے پیاروں کو یاد کرتے لواحقین اور ہزارہ برادری کے افراد میتوں کے ہمراہ دھرنے میں موجود ہیں۔ دھرنے میں خواتین، بچے اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔

مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان بھی دھرنے پر پہنچے اور شرکا سے میتوں کی تدفین کی درخواست کی لیکن ان کی کوششیں بھی بارآور ثابت نہ ہوسکیں۔ دھرنے کے شرکا نے وزیراعظم عمران خان کی کوئٹہ آمد تک دھرنا ختم کرنے اور میتوں کی تدفین سے انکار کیا ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…