اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

افغان حکومت کیساتھ رواں ہفتے امن مذاکرات نہیں ہوسکتے، طالبان کی جانب سے دو ٹوک اعلان ، ملکی سیاستدانوں کو بڑا مشورہ بھی دے ڈالا

datetime 9  مارچ‬‮  2020 |

کابل(آن لائن)طالبان عسکریت پسندوں نے کہا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ رواں ہفتے امن مذاکرات نہیں ہوسکتے ، رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکا افغان حکومت کو طالبان سے بات چیت کرنے کے لیے متحرک کرنے کی ڈالنے کی کوشش کررہا ہے جس کا آغاز کل منگل کو ہوگا۔

لیکن متوازی حکومتوں کا خطرہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے نئے عمل کو متزلزل کررہا ہے جس میں ستمبر 2001 میں امریکا کے افغانستان پر حملے کے بعد سے لاکھوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔خیال رہے کہ فروری میں افغانستان کے الیکٹورل کمیشن نے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے سخت ترین حریف عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ وہ اور ان کے اتحادی انتخاب جیتے ہیں اور اصرار کیا کہ حکومت وہ ہی بنائیں گے۔اس سلسلے میں اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے حلف برداری کے دعوت نامے تقسیم کر رکھے ہیں۔اس ضمن میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہمارا نہیں خیال کہ وہ 10 مارچ کو بین الافغان مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوں گے، سیاستدانوں کے درمیان اختلافات کے باعث صدارتی حلف برداری کی 2 تقریبات ہورہی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہم چاہتے ہیں کہ وہ حلف اٹھانے کے بجائے بین الافغان مذاکرات پر توجہ دیں، ہمارا ان سے مطالبہ ہے کہ آپس کے اختلافات کو چھوڑیں حلف نہ اٹھائیں اور امن کے لیے کام کریں‘۔اس میں ایک اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکا-طالبان معاہدے کی تحت حکوموت کی جانب سے 5 ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کی شرط پر عملدرآمد کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

اس مطالبے کو اشرف غنی نے مسترد کردیا تھا۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ بہرحال دونوں فریقین کی جانب سے قیدیوں کے معاملات کے عہدیداران نے ہفتے اور اتوار کے روز دوحہ میں ملاقات کی جو کہ امریکا-طالبان کے درمیان فوجوں کے انخلا کے معاہدے کے بعد افغان حکومتی عہدیداران کے ساتھ ہونے والا پہلا رابطہ تھا۔دوسری جانب صدارتی ترجمان نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا کہ یہ ملاقات ہوئی یا نہیں۔طالبان ترجمان نے اس بات پراصرار کرتے ہوئے کہ یہ باضابطہ بین الافغان مذاکرات نہیں تھے کہا کہ ملاقات میں  قیدیوں کی رہائی کے تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا مثلاً قیدیوں کی فہرست کی تیاری اور ان کی شناختی تفصیلات وغیرہ۔ادھر سفارتی اور سیاسی ذرائع کا کہنا تھاکہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد صورتحال میں آنے والے تعطل کو حل کرنے کے لیے عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی دونوں کے دھڑوں سے بات چیت کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…