کرونا وائرس کا پہلا کیس ،حالت خراب ہونے کے باوجود 22 سالہ طالبعلم کوہسپتال کی بجائے گھربھیجنے کا انکشاف،ڈاکٹروں کی بڑ ی غفلت سامنے آگئی

  جمعرات‬‮ 27 فروری‬‮ 2020  |  11:46

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس کا شکار 22 سالہ یحیٰی جعفری سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ یحیٰی جعفری ایران ائیر کی فلائٹ 812 کےذریعے 20 فروری کو پاکستان پہنچا۔ڈاکٹر شازیہ صفی اللہ نے یحیٰی جعفری کا معائنہ کیا۔ یحیٰی جعفری کا پاسپورٹ نمبر ایم اے 85219943 ہے۔یحیٰی جعفری طالب علم ہے اور گلستان سوسائٹی سکیم کا رہائشی ہے۔انہیں 12 فروری کو ایران میں بخار ہوا تھا۔یہاں پر حیران کن بات یہ ہے کہ طالب علم کو ائیرپورٹ پر بخار کی تصدیق ہونے کے بعد ہسپتال داخل کرنے کی بجائے گھر بھیج دیا گیا۔جس کے بعد پاکستان میں


یہ پہلا کیس سامنے آیا۔دنیا بھر میں جسے انتہائی حساس معاملہ قرار دے دیا گیا اس معاملے میں پاکستان میں لاپرواہی برتے جانے نے کئی سوالات اٹھا دئیے۔اب اس متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ یحییٰ جعفری ایران سے بس کے ذریعے پاکستان پہنچا تھا اور اسکے ساتھ اہل خانہ بھی موجود تھے جنکا بھی معائنہ کیا گیا۔ اس حوالےسے ڈی جی ہیلتھ سندھ ڈاکٹر مبین کا کہنا تھا کہ مذکورہ مریض کو فوری طورپر آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں اسکی نگہداشت کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ابھی مریض کے اندر کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، چار گھنٹے کے بعد حتمی رپورٹ سامنے آئیگی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائیگا۔


موضوعات: