اتوار‬‮ ، 01 فروری‬‮ 2026 

جسٹس نذر اکبرکا اختلافی نوٹ ،پرویز مشرف کو بری کردیا

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سنگین غداری کیس کے فیصلے میں جسٹس نذر اکبر نے اختلافی نوٹ تحریر کیا جنرل (ر) پرویز مشرف کو کیس سے بری کردیا۔ جسٹس نذر اکبر نے 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ تحریر کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ میں نے ادب سے اپنے بھائی وقار احمد سیٹھ صدر خصوصی کورٹ کا مجوزہ فیصلہ پڑھا ہے، میں صدرِ عدالت اور اکثریت کی آبزرویشنز اور نتائج سے اختلاف کرتا ہوں۔

انہوں نے اس میں لکھا کہ استغاثہ اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔جسٹس نذر اکبر کے مطابق پہلے پارلیمنٹ نے خاموشی اختیار کر کے پھر آرٹیکل 6 میں ترمیم کر کے عدلیہ کو دھوکا دیا۔اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ اس عمل کا واحد ہدف 3 نومبر 2007 کا اقدام تھا، تاہم قومی یا صوبائی اسمبلیوں میں ایمرجنسی کے نفاذ پر کوئی احتجاج نہیں کیا گیا جبکہ کسی ایک پارلیمنٹیرین نے پارلیمنٹ میں اس کی آواز نہیں اٹھائی۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ قومی اسمبلی نے 7 نومبر2007 کو اپنی قرارداد منظور کر کے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی، ان میں زیادہ تر پارلیمنٹیرین وکلاء تھے اور وکلاء تحریک کا حصہ تھے۔اس میں مزید کہا گیا کہ کسی پارلیمنٹیرین میں ہمت نا ہوئی کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک لاسکے۔نواز شریف کی برطرفی سے متعلق اختلافی نوٹ میں لکھا کہ پارلیمنٹ نے اکتوبر 1999 کی ایمرجنسی کی توثیق نظریہ ضرورت کے تحت کی۔اس میں مزید کہا گیا کہ پہلے 17ویں ترمیم کے ذریعہ مجرم کو سہولت دی گئی اور بعد میں 18ویں ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 6 میں ترمیم کی گئی جس کے ذریعے ہی پارلیمنٹ نے 7 نومبر 2007 کی قومی اسمبلی کی قرارداد کی توثیق کی۔اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعہ پارلیمنٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا 3 نومبر کا اقدام سنگین غداری نہیں تھا۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ 18ویں آئینی ترمیم منظور کرتے

وقت زیادہ تر پارلیمنٹیرین وہی تھے جو 17 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت تھے۔اختلافی نوٹ میں لکھا گیا کہ پارلیمنٹ کا آرٹیکل 6 میں ترمیم کا ارادہ تھا تو اس کا اطلاق ماضی سے ہونا چاہیے، پارلیمنٹ نے سنگین غداری جرم میں ترمیم کرکے 3 نومبر 2007 کے اقدام کی دانستہ توثیق کی۔اس کے ساتھ ساتھ جسٹس نذر اکبر نے اختلافی نوٹ میں غداری کی

تعریف کے حوالے سے بلیکس لا ڈکشنری کا حوالہ بھی دیا۔اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ پاک فوج کا ہر سپاہی آئین پاکستان کی پاسداری کا پابند ہے، آئین توڑنے والے جنرل کا ساتھ دینے والی ہائی کمان آئین کے تحفظ میں ناکام رہی۔اس میں مزید کہا گیا کہ جب جنرل (ر) پرویز مشرف فضا میں تھے تو ان کے ساتھیوں نے غیر آئینی اقدام اٹھا لیا۔

موضوعات:



کالم



اصفہان میں دو دن


کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…