جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

صوبوں نے ترقیاتی کام کرنے کے بجائے 2 کھرب 2 ارب وفاق کو واپس کردیے لیکن کیوں؟وجہ سامنے آگئی

datetime 9  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن) رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں چاروں صوبوں نے مل کر2 کھرب 2 ارب روپے کی رقم وفاقی کو فراہم کی ہے تاکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مقرر کیے گئے مالیاتی اہداف پورے کیے جاسکیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ صوبوں نے وفاق کی جانب سے تقسیم کیے جانے والے فنڈز میں سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک چوتھائی (25 فیصد) سے زائد رقم استعمال نہیں کی۔اس طرح صوبوں نے مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی(جولائی سے ستمبر) میں وفاق کو واپس کیے جانے والے فنڈز کے حوالے سے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے 2 کھرب 2 ارب روپے واپس کردیے جو سالانہ ہدف 4 کھرب 23 ارب روپے کا 48 فیصد ہے۔وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی سہ ماہی میں صوبوں کی مجموعی آمدن 7 کھرب 91 ارب روپے تھی، جس میں فیڈرل ریونیو کی مد میں ان کا مشترکہ حصہ 6 کھرب 12 ارب 50 کروڑ روپے ہے جبکہ صوبائی ٹیکسز 1 کھرب 4 ارب 50 کروڑ روپے ہیں۔اس کے برخلاف صوبوں نے صرف 5 کھرب 89 ارب روپے خرچ کیے جبکہ 2 کھرب 2 ارب وفاق کو دیے گئے لیکن صوبائی حکومتوں نے اپنے ترقیاتی کاموں پر صرف 70 ارب روپے خرچ کیے۔اس طرح صوبوں کو دستیاب آمدن میں سے ترقیاتی کاموں پر اخراجات کی شرح محض 9 فیصد رہی۔اعداد و شمار کو دیکھیں تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) یا اس کی اتحادی جماعتوں کی صوبائی حکومتوں نے ترقیاتی اخراجات کی مد میں زیادہ کفایت شعاری سے کام لیا اور وفاق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مالی تعاون کیا۔

مثال کے طور پر پنجاب نے 3 کھرب 66 ارب روپے کی مجموعی آمدن کا 21 فیصد یعنی 75 ارب 40 کروڑ روپے وفاق کو دیے جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر 12 فیصد سے بھی کم 43 ارب روپے خرچ کیے۔دوسری جانب حکومت خیبرپختونخوا نے اپنی کل آمدن ایک کھرب 41 ارب روپے کا 38 فیصد یا ایک تہائی سے زائد 54 ارب روپے استعمال ہی نہیں کیے جبکہ اس آمدن کا 6 فیصد سے بھی کم حصہ تقریباً 8 ارب 40 کروڑ روپے شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیے۔

اسی طرح بلوچستان نے اپنی آمدن کا سب سے زیادہ حصہ یعنی 37 ارب 30 کروڑ روپے یا 43.4 فیصد وفاق کو واپس کیا جبکہ ملک کے سب سے پسماندہ صوبے نے اپنے وسائل کا انتہائی معمولی 4.3 فیصد یعنی 3 ارب 70 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کی مد میں خرچ کیے۔ان سب کے برخلاف سندھ نے سب سے کم یعنی 35 ارب 50 کروڑ روپے فراہم کیے جو اس کی مجموعی آمدن کے 18 فیصد حصے سے بھی کم ہے جبکہ سندھ حکومت نے اپنی آمدن کا 8 فیصد یا 16 ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے۔آئی ایم ایف نے سرکاری خزانے کے موثر انتظامات اور عوام کے لیے کیے گئے اخراجات کا معیار اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے صوبوں کے اخراجات کو محدود کردیا تھا تاکہ وفاق کی زیادہ سے زیادہ مدد ہوسکے۔اس ضمن میں وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے تحریری معاہدہ کیا تھا کہ صوبوں کے ذریعہ مالی استحکام اور محصولات میں توسیع اس کے مالی حکمت عملی کا کلیدی جزو ہوگی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…