جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف کی ملازمت کا فیصلہ ہوجائے پھر بتاؤں گا وزیر اعظم ہائوس میں گزشتہ رات کیا کچھ ہوا؟ اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی‎

datetime 28  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے سینئر ارکان اور قانونی ٹیم کے ہنگامی اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے نیا مسودہ تیار کرلیا گیا، نیا مسودہ سپریم کورٹ کے اعتراضات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا، مسودہ تیارکرنے کے لیے معروف قانونی ماہرین کی خدمات لی گئیں۔

وفاقی کابینہ سے منظوری کیلئے سمری ارکان کابینہ کو سرکولیٹ کیے جانے کا امکان ہے ، آرمی چیف کی موجودگی میں تین بڑے فیصلے بھی کیے گئے کہ فوج اور عدلیہ کے ٹکراو کا تاثر زائل کیا جائے جبکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون اور آئین سے ہٹ کر ہوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا،آج جمعرات تک ہر صورت معاملہ حل کرنے پر اتفاق طے پایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وزیراعظم ہاوس میں جاری اہم ترین اور ہنگامی اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وکیل و سابق وزیر قانون فروغ نسیم، اٹارنی جنرل انور منصور اور ماہر قانون بابر اعوان سمیت سیکریٹری قانون بھی شریک تھے۔بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں سپریم کورٹ میں ہونیوالی سماعت پرمشاورت کی گئی۔ سپریم کورٹ کیاٹھائے گئے سوالات پرغورکیاگیا۔ وزیراعظم کی لیگل ٹیم نے سپریم کورٹ کے اعتراضات پرشق واربریفنگ دی۔ جبکہ سپریم کورٹ کے سمری پراٹھائے گئے اعتراضات پرآرمی چیف سے بھی مشاورت کی گئی۔اجلاس کے دوران آرمی چیف کی مدت ملازمت مین توسیع کیلئے سپریم کورٹ کے اعتراضات کی روشنی میں نیامسودہ تیار کیا گیا۔نیامسودہ سپریم کورٹ کیاعتراضات کومدنظررکھ کربنایاگیا اور اس کی تیاری کیلئے معروف قانونی ماہرین کی خدمات لی گئیں۔

وفاقی کابینہ سے منظوری کیلئے سمری ارکان کابینہ کو سرکولیٹ کیے جانے کا امکان ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران حکومت نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے پر ہر صورت قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے قانونی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ کل مکمل تیاری کیساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوا جائے۔

وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کسی بھی قسم کا غیر قانونی یا غیر آئینی قدم نہیں اٹھائے گی۔ اجلاس کے دوران یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہر صورت یہ تاثر زائل کیا جائے کہ فوج اور عدلیہ کے درمیان کسی قسم کا ٹکراو ہے۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے قانون اور آئین سے ہٹ کر ہوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ جبکہ یہ تمام معاملہ جمعرات آج تک ہر صورت حل کر لیا جائے گا۔

اس سے قبل آرمی چیف وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعظم ہاؤس پہنچے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ بحران کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے کابینہ کے سینئیر اراکین کا اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں لیگل ٹیم نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم آفس میں بلائے گئے اجلاس میں سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات پر مشاورت کی گئی۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس میں بابر اعوان کو بھی خصوصی طور پر بلایا۔ اسی متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں بھی یہ سوال کیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟۔ایک بار آرمی چیف کی مدت ملازمت کا فیصلہ ہو جائے پھر بتائیں گے۔انہوں نے کہا جو کچھ ہوا ہے اس پر وقت آنے پر بات کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…