ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر کب تک عملدرآمدہوجائیگا؟ پاکستان نے بڑا اعلان کردیا

  منگل‬‮ 22 اکتوبر‬‮ 2019  |  11:49

واشنگٹن(آن لائن) پاکستان آئندہ برس فروری تک انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت روکنے سے متعلق ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے پر عزم ہے اور اس معاملے پر حکومت کے مختلف اداروں کے مابین مکمل اتفاق ہے۔مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امریکا میں موجود پاکستانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملکی معیشت کو نئی جہت بخشنے کی حکومتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ ایف اے ٹی ایف کی ڈیڈ لائن سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بنیادی طور پر تمام سرکاری ادارے


ایک صفحے پر ہیں اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی روک تھام کے لیے جو فیصلہ ضروری ہوا ہم کریں گے۔واشنگٹن میں موجود امریکی سفارت خانے میں پریس بریفنگ کے دوران مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 27 تجاویز میں سے صرف 5 پر عملدرا?مد کو تسلیم کیا تھا۔تاہم اب انہوں نے 22 نکات پر پیش رفت کو تسلیم کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایکشن پلان پر تیزی سے عمل ہورہا ہے اور ہم فروری تک اس پر مکمل عملدرآمد کے لیے پر عزم ہیں۔انہوں نے اس بات سے اختلاف کیا کہ ایف اے ٹی ایف کے مجوزہ اقدامات نے ملکی معیشت کو مسائل کا شکار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا تعلق معاشی نمو سے نہیں بلکہ انسداد منی لانڈنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی روک تھام سے ہے۔مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے واشنگٹن کا دورہ عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے کیا تھا لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملکی معیشت کی بحالی کے لیے حکومتی منصوبوں پر دیگر ریاستوں کے وزیر خزانہ اور حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ خیال رہے کہ عالمی بینک کا سالانہ اجلاس مالیاتی عہدیداران کے دنیا کے سب سے بڑے اجلاسوں میں سے ایک ہے اور اس میں دنیا بھر سے سیکڑوں وفود شرکت کرتے ہیں۔یہ بات مدِ نظر رہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت پر نظر رکھنے والی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اسلام آباد کو تمام تر وعدوں پر عملدرآمد کے لیے 4 ماہ کی مہلت دی تھی جو فروری 2020 میں اختتام پذیر ہوجائے گی۔اس کے ساتھ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو اسے بلیک لسٹ کیا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے سازگار ماحول اور عدم تعاون پر 2012 میں پاکستان کا اندراج گریلسٹ میں کردیا گیا تھا جہاں وہ 2015 تک موجود رہا تھا۔بعدازاں 29 جون 2018 کو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عمل کرنے کے لیے 15 ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔

موضوعات:

loading...